کل شام ایک پرانے دوست کے گھر کھانے کی دعوت تھی۔ دسترخوان سجا ہوا تھا، کھانا گرم تھا، مگر محفل عجیب سی سرد تھی۔ میزبان نے دو مرتبہ کہا: "کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے، شروع کریں" — مگر کسی نے سنا ہی نہیں۔ ایک صاحب خبروں میں کھوئے ہوئے تھے، ایک نوجوان کانوں میں ہیڈ فون لگائے ویڈیو دیکھ رہا تھا، میزبان کی بیگم ساتھ بیٹھی فون اسکرول کر رہی تھیں، اور میز کے کونے میں ایک چھوٹا بچہ کارٹون دیکھتے دیکھتے نوالے گن رہا تھا۔ سب ایک ہی دسترخوان پر تھے — اور سب ایک دوسرے سے کوسوں دور۔
یہ کہانی صرف اس ایک گھر کی نہیں ہے۔ آپ اپنے گھر کی طرف دیکھ لیجیے، کسی شادی کی تقریب میں جھانک لیجیے، کسی ہوٹل کے ٹیبل پر نظر ڈال لیجیے — منظر تقریباً ایک سا ہے۔ ہم ایک ساتھ بیٹھتے ضرور ہیں، مگر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ہوتے۔ محفل اب محفل نہیں رہی؛ بس ایک ہی کمرے میں کئی تنہائیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔
کبھی غور کیا ہے کہ دسترخوان ہمارے گھروں میں صرف کھانے کی جگہ نہیں ہوا کرتا تھا؟ یہ خاندان کی چھوٹی سی پارلیمنٹ تھی۔ دن بھر کی باتیں یہیں ہوتی تھیں، بچوں کے مسائل یہیں کھلتے تھے، بڑوں کے مشورے یہیں ملتے تھے، اور ناراضگیاں بھی اکثر یہیں ختم ہو جاتی تھیں۔ آج دسترخوان تو ویسا ہی ہے، کھانے شاید پہلے سے اچھے ہیں — بس باتیں غائب ہو گئی ہیں۔ ان کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے، جو بولتی تو بہت ہے، مگر سنتی کسی کی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے کھویا کیا ہے؟ ہم نے محض گفتگو نہیں کھوئی، ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا ہے۔ باپ کو خبر نہیں کہ بیٹا کس پریشانی میں ہے، ماں کو معلوم نہیں کہ بیٹی کے دل میں کیا چل رہا ہے، اور بیوی کی خیریت پوچھنے کی فرصت بھی اب نوٹیفکیشنز کے رحم و کرم پر ہے۔ رشتے شور سے نہیں ٹوٹتے، خاموشی سے ٹوٹتے ہیں — اور یہ خاموشی اب ہمارے دسترخوانوں پر اتر آئی ہے۔
ہمارے دین نے رشتوں کی اسی خاموش کٹوتی کو کتنی سنجیدگی سے لیا ہے، اس کا اندازہ اس ایک فرمان سے لگا لیجیے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "رشتہ کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا" (صحیح بخاری: 5984، صحیح مسلم: 2556)۔ ظاہر ہے اس سے مراد صرف وہ نہیں جو لڑ کر گھر چھوڑ دے؛ رشتہ اس وقت بھی کٹتا ہے جب پاس بیٹھا انسان ہمارے لیے اجنبی بن جائے — جسم حاضر ہو، دل غیر حاضر۔
حل کوئی مشکل نہیں، بس تھوڑی سی ہمت درکار ہے۔ تین چھوٹی عادتیں اس محفل کو واپس لا سکتی ہیں۔ پہلی: کھانے کے وقت تمام موبائل ایک طرف رکھنے کا گھریلو اصول بنا لیں — آدھا گھنٹہ دنیا رک سکتی ہے، گھر نہیں رک سکتا۔ دوسری: مہمان آئے یا کوئی بات کرنے بیٹھے تو فون الٹا رکھ دیں؛ سامنے والے کو یہ احساس ہی آدھی محبت ہے کہ آپ اس کے لیے حاضر ہیں۔ تیسری اور سب سے اہم: بچوں کو کہنے سے پہلے بڑے خود عمل کریں — بچے نصیحت سے نہیں، نقل سے سیکھتے ہیں۔ جس دن باپ نے دسترخوان پر فون چھوڑا، اس دن بیٹا خود بخود چھوڑ دے گا۔
یاد رکھیے، محفل کی رونق کھانوں کی تعداد سے نہیں ہوتی، ایک دوسرے کی موجودگی سے ہوتی ہے۔ کھانا ٹھنڈا ہو جائے تو دوبارہ گرم ہو سکتا ہے — رشتے ٹھنڈے ہو جائیں تو پھر بہت دیر ہو جاتی ہے۔