بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
ہم اپنے محلے میں اجنبی کیوں ہو گئے؟

ہم اپنے محلے میں اجنبی کیوں ہو گئے؟

پچھلے ہفتے ایک ڈیلیوری والا لڑکا ہمارے گھر کے سامنے رک کر پوچھنے لگا: "بھائی، سامنے والے گھر میں کون رہتا ہے؟ پارسل پر صرف گلی نمبر لکھا ہے، نام نہیں۔" میں نے سامنے والے گھر کی طرف دیکھا — وہی گھر جس کے دروازے سے میں روز گزرتا ہوں، جس کی بتی رات کو میرے کمرے کی کھڑکی سے نظر آتی ہے — اور مجھے جواب نہیں سوجھا۔ تین مہینے پہلے اس گھر میں ایک خاندان شفٹ ہوا تھا، سامان اترتے میں نے دیکھا تھا، بچے بھی گلی میں کھیلتے نظر آتے ہیں — مگر گھر کے سربراہ کا نام مجھے آج تک معلوم نہیں۔ میں نے شرمندگی سے صرف اتنا کہا: "وہ سامنے والا گھر ہے، گھنٹی بجائیں، کوئی نہ کوئی نکل آئے گا۔"

یہ شرمندگی صرف میری نہیں ہے، یہ اب ہم سب کی مشترکہ کہانی بن گئی ہے۔ کبھی محلہ ایک خاندان ہوا کرتا تھا۔ سب ایک دوسرے کے نام جانتے تھے، کس کے گھر میں کون بیمار ہے، کس بچے کا امتحان ہے، کس گھر میں شادی کی تیاری چل رہی ہے — یہ سب محلے کی عام خبر ہوتی تھی۔ دروازے کھلے رہتے تھے، پلیٹ میں سالن ادھر سے ادھر جاتا تھا، اور بچے صرف اپنے گھر کے نہیں، پوری گلی کے بچے ہوتے تھے۔ آج گلیاں وہی ہیں، مکان شاید پہلے سے بڑے اور پکے ہیں — بس دروازے بند ہو گئے ہیں، اور ان کے ساتھ دل بھی بند ہو گئے ہیں۔

ہم نے اس بندش کو ایک خوبصورت نام دے دیا ہے: "پرائیویسی"۔ ہم کہتے ہیں کہ ہر کسی کی اپنی زندگی ہے، کسی کو تنگ نہیں کرنا چاہیے۔ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے — کسی کے گھر میں بلا ضرورت دخل دینا اچھی بات نہیں۔ مگر پرائیویسی اور بے خبری میں فرق ہے۔ پرائیویسی یہ ہے کہ آپ کسی کی ذاتی بات نہ کریدیں؛ بے خبری یہ ہے کہ آپ کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ آپ کے پڑوس میں کون رہتا ہے، وہ زندہ ہے یا بیمار، خوش ہے یا پریشان۔ ہم نے پہلی چیز کے نام پر دوسری چیز اپنا لی ہے۔

اور اس کی قیمت ہم خاموشی سے چکا رہے ہیں۔ سوچیے، رات کو اچانک طبیعت خراب ہو جائے تو سب سے پہلے کون پہنچ سکتا ہے؟ ہسپتال دور ہے، ایمبولینس کو وقت لگتا ہے — پڑوسی کا دروازہ سب سے قریب ہے۔ کسی بوڑھے شخص کا بیٹا بیرونِ ملک ہو، وہ اکیلا رہتا ہو، اور دو دن تک اس کی کھڑکی نہ کھلے — تو کون پوچھے گا؟ محلہ ہی وہ پہلا حفاظتی جال تھا جو مصیبت میں انسان کو تھامتا تھا۔ آج یہ جال پھٹ چکا ہے، اور ہم ایک ہی گلی میں رہتے ہوئے بھی تنہا رہ گئے ہیں۔ ہجوم میں تنہائی سے بڑی محرومی شاید ہی کوئی ہو۔

ہمارے دین نے پڑوسی کے اسی مقام کو کتنی بلندی دی ہے، اس کا اندازہ اس ایک فرمان سے لگا لیجیے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک کر دیں" (صحیح بخاری: 6014)۔ جس رشتے کی اتنی بار وصیت ہو، اس کا مطلب یہی ہے کہ پڑوسی محض مکان کا ہمسایہ نہیں، زندگی کا ساتھی ہے — اس کا حق خونی رشتوں کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

حل یہاں بھی کوئی مشکل نہیں، بس پہل درکار ہے — اور پہل ہمیشہ کسی ایک کو ہی کرنی پڑتی ہے۔ تین چھوٹی عادتیں محلے کو واپس لا سکتی ہیں۔ پہلی: سلام میں پہل کریں، اور نام یاد رکھیں — جس دن آپ نے پڑوسی کو نام لے کر سلام کیا، اس دن دیوار میں پہلی دراڑ پڑ جائے گی۔ دوسری: کبھی کبھار ایک پلیٹ، ایک چائے، ایک چھوٹی سی خیریت — رشتے بڑے تحفوں سے نہیں، چھوٹی توجہ سے بنتے ہیں۔ تیسری: مصیبت میں سب سے پہلے پڑوسی کا دروازہ کھٹکھٹائیں — بیمار ہو، ضرورت ہو، یا گھر میں کوئی پریشانی ہو، تو یہ سوچ کر نہ رکیں کہ "لوگ کیا کہیں گے"؛ پڑوسی کا دروازہ اسی دن کے لیے ہوتا ہے۔

یاد رکھیے، ہم نے اپنے گھروں کی دیواریں تو اونچی کر لی ہیں، مگر اس کے ساتھ اپنے دلوں کی دیواریں بھی اونچی کر لی ہیں۔ دیواریں چوری سے تو بچا سکتی ہیں، تنہائی سے نہیں بچا سکتیں۔ محلہ تبھی محلہ ہے جب اس میں رہنے والے ایک دوسرے کو جانتے ہوں — ورنہ یہ صرف مکانوں کی ایک قطار ہے، اور مکانوں کی قطار میں زندگی نہیں ہوتی، بس رہائش ہوتی ہے۔

— ڈاکٹر ابو طیب لقمان (فکرِ لقمان)