بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
شادی کی رونق یا قرض کا بوجھ؟

شادی کی رونق یا قرض کا بوجھ؟

پچھلے ہفتے راولپنڈی کے ایک بڑے مارکی میں ایک شادی میں جانا ہوا۔ باہر رنگ برنگی روشنیاں تھیں، اندر سٹیج پھولوں سے سجا تھا، کھانے کی میز پر اتنے پکوان تھے کہ گننا مشکل تھا — اور مہمانوں کی بھیڑ میں ہر کوئی یہی کہہ رہا تھا کہ "انتظام تو کمال کا ہے"۔ اسی بھیڑ میں دولہا کے والد ایک کونے میں کھڑے کسی سے آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے: "بس اللہ کرے اگلے سال تک یہ قرض اتر جائے، ورنہ قسطیں تو پانچ سال چلیں گی۔" سٹیج پر مسکراہٹ تھی، اور کونے میں قرض کی فکر — دونوں ایک ہی شادی کے دو چہرے تھے۔

یہ منظر اب کسی ایک گھر کی کہانی نہیں رہا، یہ ہمارے معاشرے کی عام تصویر بن گیا ہے۔ شادی خوشی کا موقع ہوا کرتی تھی، اب مقابلے کا میدان بن گئی ہے۔ کسی کی شادی میں دس پکوان تھے تو ہم بارہ بنائیں گے، کسی کا سٹیج سادہ تھا تو ہمارا سونے جیسا چمکے گا، کسی نے پانچ سو مہمان بلائے تو ہم آٹھ سو بلائیں گے۔ اور اس مقابلے کی قیمت کون چکا رہا ہے؟ وہ باپ جو بیٹی کی شادی کے لیے برسوں کی بچت ایک رات میں لٹا دیتا ہے، وہ بھائی جو قرض لے کر بہن کو رخصت کرتا ہے، اور وہ خاندان جو شادی کے بعد برسوں قسطیں بھرتا رہتا ہے۔ ہم نے خوشی منانے کے لیے قرض لینا معمول بنا لیا ہے — اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ گھروں میں سکون کیوں نہیں۔

سوچیے، ہم نے کھویا کیا ہے؟ ہم نے نکاح کی سادگی کھو دی ہے — وہ سادگی جس میں برکت تھی۔ نکاح کو آسان ہونا چاہیے تھا، ہم نے اسے سب سے مشکل معاہدہ بنا دیا ہے۔ کتنی بیٹیاں ایسی ہیں جن کی شادیاں صرف اس لیے ٹل رہی ہیں کہ گھر والے "اچھا انتظام" کرنے کے پیسے جمع کر رہے ہیں؟ کتنے نوجوان صرف اس لیے نکاح سے ڈر رہے ہیں کہ انہیں لگتا ہے شادی کا مطلب لاکھوں کا خرچ ہے؟ اور ولیمے کی دعوت میں غریب رشتے دار کا نام فہرست سے اس لیے کٹ جاتا ہے کہ "جگہ کم ہے" — جبکہ امیر مہمانوں کے لیے کرسیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ہم نے خوشی کو دکھاوے سے جوڑ دیا ہے، اور دکھاوا کبھی خوشی نہیں دیتا، صرف تھکاوٹ اور قرض دیتا ہے۔

ہمارے دین نے اسی دکھاوے کی دعوت کو کتنی سختی سے دیکھا ہے، اس کا اندازہ اس ایک فرمان سے لگا لیجیے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سب سے برا کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے" (صحیح بخاری: 5177)۔ جس دعوت سے غریب رہ جائے، وہ کھانا کھانے کے قابل نہیں — پھر اس پر لاکھوں خرچ کر کے ہم کیا حاصل کر رہے ہیں؟ لوگوں کی واہ واہ؟ وہ واہ واہ شادی کی رات ختم ہو جاتی ہے، مگر قرض کی قسطیں برسوں چلتی ہیں۔

حل یہاں بھی کوئی مشکل نہیں، بس ہمت اور تھوڑی سی عقل درکار ہے۔ تین چھوٹی عادتیں شادی کو واپس خوشی بنا سکتی ہیں۔ پہلی: نکاح کو سادہ رکھیں — مسجد میں نکاح، قریبی رشتے دار، سادہ ولیمہ۔ خرچ اپنی حیثیت کے مطابق کریں، قرض لے کر دکھاوا ہرگز نہ کریں؛ جو شادی قرض سے شروع ہو، اس میں برکت کہاں سے آئے گی؟ دوسری: مہمانوں کی فہرست میں غریب رشتے داروں کو پہلے رکھیں — جو آپ کی خوشی میں شریک ہونے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں، نہ کہ صرف وہ جن سے تعلق کا کوئی فائدہ ہو۔ تیسری: مقابلہ چھوڑ دیں — "لوگ کیا کہیں گے" کی فکر چھوڑ کر "اللہ کیا کہے گا" کی فکر کریں۔ بیٹی کی شادی میں تاخیر نہ کریں، اور بیٹے کو نکاح سے نہ ڈرائیں؛ سادگی شرمندگی نہیں، سادگی برکت ہے۔

یاد رکھیے، شادی کی رونق مہمانوں کی تعداد یا پکوانوں کی تعداد سے نہیں ہوتی، دلوں کی خوشی اور اللہ کی برکت سے ہوتی ہے۔ قرض لے کر کی گئی رونق کا حساب برسوں چکانا پڑتا ہے — اور جس رات دل بوجھل ہو، وہ رات خوشی کی رات نہیں ہوتی۔

— ڈاکٹر ابو طیب لقمان (فکرِ لقمان)