بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
مقالہ / خطبہ — غیر فتویٰ مواد
آرکائیو 010
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 8 جنوری 2026
موضوع

(الف) جی ڈی کیا ہے — (ب) GDP تعلیم کے لئے 2.6 اب بتاؤ — (ج) اب بتاؤ (سلائیڈ کی وضاحت) — (د) خط غربت کیا ہے

متن

(الف) جی ڈی کے مفاہیم: 1۔ جنرل ڈائری (تھانے کا روزنامچہ)؛ 2۔ جنرل ڈیوٹی (مسلح افواج/ملازمت)؛ 3۔ گروپ ڈسکشن (انٹرویوز/ISSB)؛ 4۔ گریڈڈ ڈسکشن بورڈ (آن لائن تعلیمی نظام)۔ آخر میں پوچھا گیا کہ کس تناظر میں جاننا چاہتے ہیں۔

(ب) GDP: ملک میں ایک سال کی تمام اشیاء و خدمات کی مجموعی مالیاتی قیمت۔ تعلیم پر GDP کا 2.6% یعنی ہر 100 روپے میں سے 2.60 روپے تعلیم پر (اسکول/کالج/یونیورسٹی اخراجات، اساتذہ کی تنخواہیں و پنشن، تعمیر و مرمت، وظائف و تحقیقی فنڈز)۔ UNESCO معیار 4–6%؛ پاکستان کا بجٹ تاریخی طور پر 1.5–2.5%؛ 2.6% بہتری مگر 4% سے کم۔

(ج) سلائیڈ "عصر حاضر کا نوجوان اور معاشی بحران": تعلیم پر 2.6% خرچ اور بلوچستان میں غربت 80% — ہنر و مارکیٹ میں عدم مطابقت، ڈیجیٹل دور کی تیاری کا فقدان؛ نوجوانوں کو بحران سے نکالنے کے لیے تعلیمی بجٹ بڑھانا اور مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر۔

(د) خطِ غربت: آمدنی کی وہ کم از کم حد جس سے نیچے انسان بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان) پوری نہ کر سکے۔ تعین: غذائی معیار (روزانہ 2100–2350 کیلوریز)، بنیادی ضروریات کی ٹوکری (پانی، لباس، کرایہ، علاج، تعلیم)، بین الاقوامی معیار (عالمی بینک، روزانہ تقریباً سوا دو ڈالر)۔ اہمیت: حقیقی شرح کا علم اور امداد کی منصفانہ تقسیم (مثلاً بے نظیر انکم سپورٹ)۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ