(الف) احمدیہ قبیلے کی جس عورت کو رجم کیا تھا اس کا نام
(ب) غامدیہ قبیلہ
(ج) اس کی جس عورت کو رجم کیا تھا
(الف) رجم کا مشہور واقعہ "احمدیہ" نہیں بلکہ قبیلہ "غامد" کی خاتون کا ہے۔ احادیث (صحیح مسلم) و سیرت کی کتابوں میں ان کا ذاتی نام نقل نہیں ہوا؛ وہ "الغامدية" کے نام سے معروف ہیں۔ واقعہ: خود حاضر ہو کر اعتراف کیا؛ حاملہ ہونے پر ولادت تک، پھر دودھ پلانے کی مدت تک مہلت ملی؛ بچے کے روٹی کھانے کے قابل ہونے پر تیسری بار حاضر ہوئیں اور حد جاری ہوئی؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے ایسی سچی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر گنہگاروں پر تقسیم کر دی جائے تو ان سب کی مغفرت کے لیے کافی ہو جائے۔
(ب) قبیلہ غامد: ازد کی شاخ، جد غامد بن عبداللہ؛ لقب "غامد" جھگڑے کی پردہ پوشی/صلح کی وجہ سے ملا (غمد: چھپانا/میان میں کرنا)۔ مسکن: جزیرہ نما عرب کا جنوب مغربی حصہ، موجودہ صوبہ الباحہ؛ پڑوس میں برادر قبیلہ زہران۔ سنہ 9 ہجری (عام الوفود) میں وفد مدینہ حاضر ہوا، قائد ابو ظبیان الاعرج؛ اسلام قبول کیا، نبی ﷺ نے دعا اور تحریری فرمان عطا فرمایا۔ مشہور شخصیات: ابو ظبیان الاعرج، جندب بن زہیر غامدی، سفیان بن عوف غامدی، غامدیہ خاتون۔ اوصاف: مہمان نوازی، شجاعت، تیر اندازی، فصاحت۔
(ج) ذاتی نام کتبِ حدیث و تاریخ میں محفوظ نہیں — حکمت: (1) ستر و پردہ پوشی کا شرعی اصول (توبہ کے بعد نام اچھالنے کے بجائے پردہ پوشی)؛ (2) کتبِ رجال (ابن حجر کی الاصابہ، ابن الاثیر کی اسد الغابہ) میں بھی صرف "الغامدیہ / امرأة من غامد" درج ہے؛ (3) مقصد حکم (حدود و توبہ) کی وضاحت تھی، ذات کو نشانہ بنانا نہیں۔