خطیب کے لیے نیت کی اہمیت، اخلاص اور اصلاحِ نیت پر سات سے دس منٹ کا مکمل تیار خطبہ چاہیے — مستند دلائل و حوالوں کے ساتھ، عام فہم و خوبصورت انداز میں۔
تمہید: الحمد للہ رب العالمین... — نیت ہر عمل کی روح ہے؛ نیت درست ہو تو معمولی عمل عبادت، خراب ہو تو بڑا عمل بے فائدہ۔
نیت کا مقام: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى" (صحیح بخاری: 1) — قبولیت کا معیار ظاہری شکل نہیں، نیت ہے۔
اخلاص: ہر عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے؛ "وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ" (سورۃ البینہ: 5) — اخلاص کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں۔
اصلاح کے عملی طریقے: (1) ہر عمل سے پہلے نیت کی تجدید؛ (2) ریاکاری سے بچنا، ممکن ہو تو عمل خفیہ؛ (3) دنیاوی مقاصد (عہدہ، شہرت، مال) سے اجتناب؛ (4) روزانہ محاسبہ نفس، کمی پر توبہ۔
جمعہ کی تیاری: جلدی اٹھنا، غسل، خوشبو، صاف کپڑے، مسجد جلدی جانا — سب رضائے الٰہی کی نیت سے؛ خطبہ غور سے سننا بھی اصلاحِ نیت کا حصہ۔
اختتامی دعا: اللہ نیتوں کو خالص کرے، اعمال قبول فرمائے، ریاکاری و دکھاوے سے بچائے۔ آمین۔