صفر کے مہینے سے متعلق توہمات پر 10 منٹ کی تحریری تقریر — دلائل و حوالوں کے ساتھ، خوبصورت انداز میں۔
حقیقت: صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ؛ اللہ کے بارہ مہینوں میں سے ایک ("إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا" — سورۃ التوبہ: 36)؛ کسی مہینے کو منحوس کہنا تخلیقِ الٰہی پر اعتراض ہے۔
مشہور توہمات: (1) صفر میں شادی نہ کرنا؛ (2) صفر میں سفر نہ کرنا؛ (3) صفر میں کاروبار نہ کرنا؛ (4) آخری بدھ کی خاص رسومات (چوری/حلوہ وغیرہ) — سب بدعات و غلط فہمیاں؛ شادی/حادثے/رزق کا تعلق مہینے سے نہیں، تقدیر و مشیتِ الٰہی سے ہے۔
دلیل: "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ" (صحیح بخاری: 5707) — نہ صفر کی کوئی نحوست ہے۔
طرزِ عملِ صحابہ: صحابہ نے صفر میں شادیاں، سفر، کاروبار سب کیے، کبھی منحوس نہ سمجھا۔
اختتام و دعا: صفر عام مہینہ ہے؛ توہمات جاہلیت کی باقیات ہیں — عقیدہ قرآن و سنت کے مطابق درست رکھیں۔