بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
مقالہ / خطبہ — غیر فتویٰ مواد
آرکائیو 029
موضوع: خطبات و تقاریر
تاریخ: 2 مئی 2026
موضوع

صفر کے مہینے سے متعلق توہمات پر 10 منٹ کی تحریری تقریر — دلائل و حوالوں کے ساتھ، خوبصورت انداز میں۔

متن

حقیقت: صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ؛ اللہ کے بارہ مہینوں میں سے ایک ("إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا" — سورۃ التوبہ: 36)؛ کسی مہینے کو منحوس کہنا تخلیقِ الٰہی پر اعتراض ہے۔

مشہور توہمات: (1) صفر میں شادی نہ کرنا؛ (2) صفر میں سفر نہ کرنا؛ (3) صفر میں کاروبار نہ کرنا؛ (4) آخری بدھ کی خاص رسومات (چوری/حلوہ وغیرہ) — سب بدعات و غلط فہمیاں؛ شادی/حادثے/رزق کا تعلق مہینے سے نہیں، تقدیر و مشیتِ الٰہی سے ہے۔

دلیل: "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ" (صحیح بخاری: 5707) — نہ صفر کی کوئی نحوست ہے۔

طرزِ عملِ صحابہ: صحابہ نے صفر میں شادیاں، سفر، کاروبار سب کیے، کبھی منحوس نہ سمجھا۔

اختتام و دعا: صفر عام مہینہ ہے؛ توہمات جاہلیت کی باقیات ہیں — عقیدہ قرآن و سنت کے مطابق درست رکھیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ