مرد کا غسل جنابت اور عورت کا غسل جنابت بتادیں
فرائض (دونوں کے لیے یکساں): (1) کلی کرنا — منہ کے ہر حصے تک پانی پہنچے؛ (2) ناک میں پانی ڈالنا — نرم ہڈی تک؛ (3) پورے جسم پر پانی بہانا — سر کے بالوں سے پاؤں کے تلووں تک کوئی بال برابر حصہ خشک نہ رہے۔
فرائض (دونوں کے لیے یکساں): (1) کلی کرنا — منہ کے ہر حصے تک پانی پہنچے؛ (2) ناک میں پانی ڈالنا — نرم ہڈی تک؛ (3) پورے جسم پر پانی بہانا — سر کے بالوں سے پاؤں کے تلووں تک کوئی بال برابر حصہ خشک نہ رہے۔
مسنون طریقہ: نیت و تسمیہ ("بِسْمِ اللَّهِ")؛ دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین بار دھونا؛ بائیں ہاتھ سے استنجا و ناپاکی صاف کرنا؛ ہاتھ صابن/مٹی سے دھونا؛ نماز جیسا مکمل وضو (پانی جمع ہو رہا ہو تو پاؤں آخر میں)؛ سر پر تین مرتبہ پانی — جڑوں تک پہنچے؛ پہلے دائیں کندھے پھر بائیں پر اور پورے جسم پر پانی بہانا؛ جسم ملنا بھی سنت ہے۔
فرق (بال): عورت کے گندھے بال/چوٹی کھولنا ضروری نہیں — سر پر تین چُلو پانی جڑوں تک پہنچا دینا کافی ہے۔ دلیل: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا، إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ" [صحیح مسلم: 330]۔ مرد کے بال عام طور پر کھلے ہوتے ہیں — تمام بال جڑوں تک بھگونا لازم؛ گندھی چوٹیاں ہوں تو کھولنا ضروری (رخصت عورتوں کو مشقت و حیا کے پیشِ نظر ملی ہے)۔
خلاصہ: طریقہ ایک ہی ہے؛ خواتین کو چوٹی نہ کھولنے کی آسانی ہے، مرد کے تمام بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچنا فرض ہے۔