بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 049
موضوع: حج و عمرہ
تاریخ: 30 اگست 2026 — ہجری: 16 ربیع الاول 1448ھ
سوال

کسی کے لیے عمرہ کرنا ہو تو کیا ایک ہی عمرہ کئی لوگوں کے لیے کر سکتے ہیں؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ حج و عمرہ بدنی عبادات ہیں؛ اصل خود ادا کرنا ہے۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — ایک وقت میں ایک عمرہ صرف ایک ہی شخص کی طرف سے ادا ہو سکتا ہے؛ ایک احرام میں دو یا زائد افراد (والدین دونوں یا متعدد مرحومین) کی نیابت کی نیت نہ درست ہے نہ سب کی طرف سے کفایت کرے گی۔

1۔ حج و عمرہ بدنی عبادات ہیں؛ اصل خود ادا کرنا ہے۔ عذر (وفات/شدید بڑھاپا/مرض) پر نیابت کی رخصت نص کے مطابق ایک وقت میں ایک ہی شخص کے لیے ہے — دلیل: حدیثِ شبرمہ: «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» کہنے والے کو آپ ﷺ نے پہلے اپنا حج ادا کرنے کا حکم دیا، پھر ایک ہی شخص (شبرمہ) کی طرف سے توثیق فرمائی (سنن ابی داؤد: 1811، ابن ماجہ)۔

2۔ اللجنۃ الدائمہ، ابن باز و ابن عثیمین رحمہم اللہ کا متفقہ فتویٰ: ایک عمرہ صرف ایک انسان کی طرف سے؛ دو یا زیادہ کی نیت کر لی تو نیت لغو اور عمرہ کسی کی طرف سے بھی نیابت شمار نہیں ہوگا بلکہ ادا کرنے والے کا اپنا ہوگا۔

3۔ متعدد کو فائدہ پہنچانے کے مسنون طریقے: (الف) عمرے کے تمام ارکان میں دعاؤں میں سب (والدین، مرحومین، تمام مسلمان) کو شامل کرنا — اجر سب کو پہنچتا ہے؛ (ب) الگ الگ عمرہ: پہلا عمرہ مکمل کر کے احرام کھولیں، پھر حرم کی حدود سے باہر میقات (مسجدِ عائشہ/تنعیم) سے نیا احرام باندھ کر دوسرے شخص کے لیے مستقل عمرہ کریں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔