بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 091
موضوع: طہارت و خواتین کے مسائل
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

کیا نیل پالش لگا کر وضو ہو جاتا ہے؟ میں نے لاعلمی میں نیل پالش کے ساتھ وضو کر کے کئی نمازیں پڑھ لیں، ان نمازوں کا کیا ہوگا؟ اور آج کل بازار میں "بریتھ ایبل" یا "حلال نیل پالش" ملتی ہے جس کے بارے میں دعویٰ ہے کہ اس سے پانی گزر جاتا ہے — کیا اس کے ساتھ وضو درست ہوگا؟

الجواب
مختصر جواب

وضو کی صحت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ پانی اعضائے وضو کی جلد تک براہِ راست پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں اور چہرے کے دھونے کا حکم دیا ہے (سورۃ المائدہ: ۶)، اور دھونا اسی وقت متحقق ہوتا ہے جب پانی عضو تک پہنچے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ بنیادی اصول — پانی کا جلد و ناخن تک پہنچنا شرط ہے:

وضو کی صحت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ پانی اعضائے وضو کی جلد تک براہِ راست پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں اور چہرے کے دھونے کا حکم دیا ہے (سورۃ المائدہ: ۶)، اور دھونا اسی وقت متحقق ہوتا ہے جب پانی عضو تک پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا جس کے ابھرواں (ایڑھی) خشک رہ گیا تھا: ”ایڑھیوں کے لیے آگ کی خرابی ہے“ (صحیح البخاری: ۶۰؛ صحیح مسلم: ۲۴۱) — یعنی عضو کا چھوٹا سا حصہ بھی خشک رہ جائے تو وضو کامل نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عضو پر کوئی ایسی چیز ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے تو اس عضو کا دھونا درست نہیں جب تک وہ چیز دور نہ کر دی جائے (الام: ۱/۴۴)۔

۲۔ عام نیل پالش — وضو نہیں ہوتا:

عام نیل پالش ناخن پر ایک سخت تہ (پرت) بنا دیتی ہے جو پانی کو ناخن تک پہنچنے سے روکتی ہے؛ اس لیے اس کے ہوتے ہوئے وضو نہیں ہوتا۔ فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ (۵/۲۱۸) میں ہے کہ اگر رنگ (پالش) پانی کے لیے رکاوٹ ہو تو وضو سے پہلے اسے اتارنا ضروری ہے، ورنہ وضو درست نہیں — بخلاف مہندی کے، جس کا رنگ جلد میں سرایت کرتا ہے اور تہ نہیں بناتا۔ یہی حکم ہر اس میک اپ و رنگ کا ہے جو جسم دار تہ بنائے۔ البتہ یہ واضح رہے کہ پالش بذاتِ خود نماز سے نہیں روکتی: جو خاتون وضو کر کے پھر پالش لگائے، اس کی نماز اس وضو سے درست ہے؛ مسئلہ صرف اگلے وضو کا ہے، جو پالش اتار کر ہی ہوگا۔

۳۔ پالش کے ساتھ پڑھی گئی نمازوں کا حکم:

چونکہ وہ وضو درست نہیں تھا، اس وضو سے پڑھی گئی نمازیں بھی درست نہیں ہوئیں اور ان کی قضا لازم ہے — یہ اللجنۃ الدائمہ کے اسی فتویٰ پر مبنی مفصل جواب (IslamQA: ۱۰۳۷۳۸) کی تصریح ہے کہ لاعلمی سے گناہ تو معاف ہو سکتا ہے مگر نماز کا درست ہونا علم پر موقوف نہیں؛ طہارت کے بے صحت ہونے سے نماز بھی بے صحت رہتی ہے۔ پس سائلہ ان نمازوں کا اندازہ لگا کر ان کی قضا کریں — دن میں چند نمازیں آہستہ آہستہ پڑھتی رہیں یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ ذمہ ادا ہو گیا۔ یہ بوجھ نہیں، توبہ و اصلاح کا راستہ ہے۔

۴۔ "بریتھ ایبل / حلال" نیل پالش کا حکم:

یہاں اصول دعوے سے نہیں، حقیقت سے چلے گا: وضو کے لیے صرف نمی کا پہنچنا کافی نہیں، پانی کا عضو پر بہنا اور اس تک پہنچنا ضروری ہے۔ ان مصنوعات کے بارے میں تحقیق یہی ہے کہ یہ ہوا و نمی کو جزوی طور پر گزارتی ہیں، لیکن یہ ثابت نہیں کہ وضو کے دھونے میں پانی واقعی ناخن تک پہنچتا ہے — اسلام کیو اے کے مفصل جواب (۲۰۲۹۷۱) میں اسی شک کی صراحت ہے کہ کمپنیوں کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی اور نمی پانی کے قائم مقام نہیں۔ جب تک کسی قابلِ اعتماد جانچ سے یہ یقینی نہ ہو جائے کہ پانی ناخن تک پہنچتا ہے، احتیاط و راجح یہی ہے کہ اسے بھی عام پالش ہی کے حکم میں رکھا جائے اور وضو سے پہلے اتارا جائے۔ "حلال" کا لیبل شرعی دلیل نہیں بنتا۔ یاد رہے کہ نیل پالش بطور زینت نامحرموں کے سامنے ظاہر کرنا بھی جائز نہیں، خواہ کوئی بھی قسم ہو۔

مقاصدی تنبیہ: نماز کی قبولیت کی کنجی طہارت ہے؛ شریعت نے یہ رعایت اس لیے نہیں دی کہ سہولت کے نام پر عبادت کی بنیاد ہی مشکوک کر لی جائے۔ جس چیز کے بارے میں شک ہو کہ وہ پانی روکتی ہے، اسے اتار کر وضو کرنا چند لمحوں کا کام ہے — اسی میں نماز کی حفاظت ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔