اس دار الافتاء میں ہر جواب کا مدار قرآنِ مجید اور سنتِ صحیحہ پر ہے۔ حدیث پیش کرتے وقت اس کی صحت کی جانچ کی جاتی ہے اور صرف صحیح یا حسن روایات مکمل حوالے (کتاب، باب، نمبر) کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں؛ ضعیف یا موضوع روایات سے استدلال نہیں کیا جاتا۔
نصوص کی تشریح میں سلفِ صالحین کے فہم اور محقق اہلِ علم کی تحقیقات سے رہنمائی لی جاتی ہے، اور جہاں ائمہ و علماء کا اختلاف ہو وہاں دلیل کی قوت کی بنیاد پر راجح قول اختیار کیا جاتا ہے۔
اختلافی مسائل میں تعصب کے بجائے دلیل دیکھی جاتی ہے؛ مرجوح قول کا ذکر بھی امانتاً کر دیا جاتا ہے تاکہ سائل پر پوری صورت واضح رہے۔
طبی، قانونی یا مالی تکنیکی معاملات میں جواب شریعت کے اصولوں کی حد تک ہوتا ہے؛ مخصوص صورتوں میں متعلقہ ماہر (طبیب، وکیل، اکاؤنٹنٹ) سے رجوع کی تلقین کی جاتی ہے۔ بعض حساس معاملات (مثلاً عدالت میں زیرِ سماعت تنازعات) میں تحریری استفتاء کی رہنمائی کی جاتی ہے۔
سائل کا نام اور ذاتی معلومات کبھی شائع نہیں کی جاتیں؛ سوال کو ضرورت کے مطابق مختصر یا تبدیل کر کے پیش کیا جاتا ہے۔
اگر کسی جواب میں غلطی کی نشاندہی ہو تو دلیل کی روشنی میں اس کی تصحیح کر دی جاتی ہے — رجوع الی الحق اس ادارے کے منہج کا حصہ ہے۔