بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 004
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 3 دسمبر 2025 — ہجری: 12 جمادی الآخرہ 1447ھ
سوال

السلام وعلیکم!

اس بارے میں وضاحت چاہیے۔۔

جب کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ بات اس کو شرح صدر ہوئی ہے یا اللہ نے یہ بات اس کے دل میں القاء کر دی ہے، تو کیا یہ اللہ پہ تہمت باندھنے کے مترادف ہے؟

دوسرا کیا اس مسئلہ پہ علماء نے کلام کیا ہے یا نہیں، کہ اس کی واقعی کوئی حقیقت ہوتی ہے یا نہیں؟ یا کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا وغیرہ۔

الجواب
مختصر جواب

اس مسئلے کی نزاکت اور کتاب و سنت کے اصولوں کی روشنی میں اس کی وضاحت درج ذیل ہے: کتاب و سنت کی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے دلوں میں خیر کی بات ڈالتا ہے یا حق کی پہچان کے لیے ان کا سینہ کھول دیتا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

اس مسئلے کی نزاکت اور کتاب و سنت کے اصولوں کی روشنی میں اس کی وضاحت درج ذیل ہے:

شرحِ صدر اور القاء کی حقیقت

کتاب و سنت کی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے دلوں میں خیر کی بات ڈالتا ہے یا حق کی پہچان کے لیے ان کا سینہ کھول دیتا ہے۔ اسے شرعی اصطلاح میں الہام، القاء یا فراستِ ایمانی کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "پس جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے" (سورۃ الزمر: 22)۔

اسی طرح احادیث میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ محدث (جن کے دل میں اللہ کی طرف سے بات ڈالی جائے) تھے۔ لہذا اس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کیا یہ اللہ پر تہمت باندھنا ہے؟

اس کا جواب اس شخص کی نیت اور اس کے دعوے کی نوعیت پر منحصر ہے:

کب جائز ہے؟ اگر کوئی نیک اور متبعِ سنت شخص کسی معاملے میں الجھن کا شکار ہو اور پھر اسے اچانک کسی پہلو پر دلی اطمینان حاصل ہو جائے، تو وہ اسے اللہ کا فضل اور شرحِ صدر قرار دے سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ بات قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو۔

کب تہمت ہے؟ اگر کوئی شخص اس القاء یا شرحِ صدر کو وحی کے درجے میں رکھے، اسے معصوم (خطا سے پاک) سمجھے، یا اس کے ذریعے شریعت کے کسی حکم کو بدلنے کی کوشش کرے، تو یہ اللہ پر تہمت باندھنے اور القول علی اللہ بغیر علم (اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرنا) کے مترادف ہے۔

علماء کا کلام اور شرعی ضابطہ

امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم رحمہما اللہ نے اس مسئلے پر بہت تفصیل سے کلام کیا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے کچھ کڑے ضوابط بیان کیے ہیں جو کتاب و سنت کے منہج کی بنیاد ہیں:

شریعت کا میزان: دل میں آنے والی ہر بات یا شرحِ صدر کو قرآن و سنت کے ترازو میں تولا جائے گا۔ اگر وہ شریعت کے موافق ہے تو قبول ہے، اگر مخالف ہے تو وہ شیطانی وسوسہ ہے، اور اگر وہ مباح کاموں میں سے ہے تو وہ ایک ذاتی میلان ہے۔

حجت اور دلیل: کسی کا انفرادی الہام یا شرحِ صدر صرف اس کی اپنی ذات کے لیے (بشرطِ صحت) اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن یہ دوسروں کے لیے شرعی دلیل یا حجت نہیں بن سکتا۔

دعویٰ کی ممانعت: علماء اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص کثرت سے یہ کہے کہ "اللہ نے میرے دل میں یہ ڈالا ہے" یا "میرا رب مجھ سے کلام کرتا ہے"۔ یہ صوفیاء کے اس غلو کی طرح ہے جس میں وہ حدثنی قلبی عن ربی (میرے دل نے میرے رب سے روایت کی) کہہ کر سنتِ نبوی سے بے نیاز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

خلاصہ: شرحِ صدر اور القاء کی حقیقت موجود ہے، لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا ہر کس و ناکس دعویٰ کرتا پھرے۔ یہ ایک لطیف ایمانی کیفیت ہے جو اتباعِ سنت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی القاء کو شریعت پر مقدم کرنا یا اسے قطعی سمجھنا گمراہی ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔