بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 005
موضوع: زکاۃ، قربانی و عقیقہ
تاریخ: 9 دسمبر 2025 — ہجری: 18 جمادی الآخرہ 1447ھ
سوال

Luqman bhai, in short sahib e nisab bta skty hain? For zakat and for qurbani.

Aur ye bhi k qurbani farz, sunnat ya wajib hai

الجواب
مختصر جواب

نصاب اور قربانی کی حیثیت سے متعلق مدلل وضاحت درج ذیل ہے: اس مسئلے میں نصوص کے استنباط سے دو بنیادی موقف سامنے آتے ہیں:۔

نصاب اور قربانی کی حیثیت سے متعلق مدلل وضاحت درج ذیل ہے:

نصاب کی تحدید

شرعی نصوص کی روشنی میں نصاب کی دو صورتیں ہیں:

قربانی کی شرعی حیثیت اور دلائل

اس مسئلے میں نصوص کے استنباط سے دو بنیادی موقف سامنے آتے ہیں:

1۔ سنتِ مؤکدہ کا موقف: جمہور علمائے حدیث کے نزدیک یہ ایک ایسی سنت ہے جس کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کی بڑی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھے..."

یہاں لفظ "ارادہ" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ فعل واجب نہیں ہے، کیونکہ واجب انسان کے ارادے پر نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر منحصر ہوتا ہے۔ صحابہ کرام میں سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ وہ کبھی کبھار قربانی نہیں کرتے تھے تاکہ لوگوں کو یہ گمان نہ ہو جائے کہ یہ واجب ہے۔

2۔ وجوب کا موقف: بعض محققین اور ائمہ کے نزدیک صاحبِ استطاعت پر قربانی واجب ہے۔ ان کی دلیل سنن ابن ماجہ کی یہ صحیح روایت ہے:

"جس شخص کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔"

اتنی سخت وعید عموماً کسی واجب کے ترک کرنے پر ہی دی جاتی ہے۔ لہٰذا، احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ جس کے پاس مالی گنجائش ہو، وہ اسے ہرگز ترک نہ کرے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔