بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 009
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 2 جنوری 2026 — ہجری: 13 رجب 1447ھ
سوال

سوال (الف)

کرپٹو پہ سعودی علماء کا کیا فتوی ہے

سوال (ب)

کرپٹو سے پیسے نکال سکتے ہیں ؟

الجواب
مختصر جواب

کرپٹو کرنسی (جیسے بٹ کوائن وغیرہ) کے متعلق سعودی عرب کے کبار علماء، مفتیانِ کرام اور معتبر علمی و فتویٰ کمیٹیوں کا موقف درج ذیل دلائل اور فقہی اصولوں پر مبنی ہے:۔

جواب (الف)

کرپٹو کرنسی (جیسے بٹ کوائن وغیرہ) کے متعلق سعودی عرب کے کبار علماء، مفتیانِ کرام اور معتبر علمی و فتویٰ کمیٹیوں کا موقف درج ذیل دلائل اور فقہی اصولوں پر مبنی ہے:

شرعی حکم

سعودی عرب کے کبار علماء کی اکثریت (جن میں کبار علماء کونسل کے ارکان، شیخ عبداللہ المنیع، شیخ سعد الشثری اور دیگر معتبر محققین شامل ہیں) کے نزدیک موجودہ صورتحال میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا، اس کی خرید و فروخت اور اس کی مائننگ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

علماء نے اس کی حرمت اور عدمِ جواز کے لیے درج ذیل بنیادی دلائل اور علل (وجوہات) بیان کی ہیں:

حرمت کے بنیادی شرعی دلائل

1۔ غرر اور جہالتِ فاحشہ (شدید خطرہ اور گمنامی): شریعتِ اسلامیہ کا یہ اصول ہے کہ ایسی کسی بھی چیز کی تجارت ممنوع ہے جس کی حقیقت، نفع و نقصان یا وجود میں شدید ابہام اور خطرہ ہو (جسے غرر کہا جاتا ہے)۔ کرپٹو کرنسی کی قیمتیں کسی حقیقی اثاثے یا معیشت کے بجائے محض فرضی طلب اور رسد پر سیکنڈوں میں اوپر نیچے ہوتی ہیں۔ مزید برآں، بہت سی ڈیجیٹل کرنسیوں کے بانی اور پسِ پردہ محرکین گمنام ہیں، جو کہ شرعی طور پر "جہالتِ فاحشہ" کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ ریاستی سرپرستی اور قانونی ضمانت کا نہ ہونا: معیشت اور اسلامی فقہ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق، کرنسی (زر) کا درجہ صرف اسی چیز کو دیا جا سکتا ہے جس کے پیچھے کسی ملک کی حکومت، ریاست یا مرکزی بینک کی ضمانت اور سرپرستی موجود ہو، تاکہ عوام کا مال ضائع ہونے سے بچے اور معاشرے میں امن و استحکام رہے۔ کرپٹو کا کوئی ملک یا مرکزی بینک ضامن نہیں ہے، اس لیے یہ شرعی طور پر مستند "مال" یا "کرنسی" کا درجہ حاصل نہیں کر پاتی۔

3۔ قمار (جوئے) اور اکلِ مال بالباطل سے مشابہت: کرپٹو مارکیٹ میں ہونے والی زیادہ تر سرمایہ کاری کا مقصد کوئی حقیقی مینوفیکچرنگ، تجارت یا خدماتی فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ محض مارکیٹ کی ساہوکاری اور قیاس آرائیوں کے ذریعے راتوں رات امیر بننے کی کوشش ہوتی ہے۔ علماء کے نزدیک یہ طریقہ کار جوئے (لاٹری) سے مماثلت رکھتا ہے، جہاں ایک کا فائدہ دوسرے کا سراسر نقصان ہوتا ہے، اور یہ قرآن کی آیت "اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ" [سورۃ البقرہ: 188] کی خلاف ورزی ہے۔

4۔ معاشی مفاسد اور نقصان کا سبب: شریعت کا قاعدہ ہے کہ "نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان دو" (یہ قاعدہ حدیثِ نبوی «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» سے ماخوذ ہے — سنن ابن ماجہ: 2341، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا)۔ کرپٹو بلاک چین نیٹ ورک گمنام ہونے کی وجہ سے اکثر بین الاقوامی سطح پر منی لانڈرنگ، اغوا برائے تاوان کی ادائیگی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایسی چیز کی مہم جوئی کا حصہ بننا جو ملکی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچائے، شرعاً ممنوع ہے۔

خلاصہ کلام: سعودی عرب کے کبار اہل علم کا متفقہ رجحان یہی ہے کہ جب تک کرپٹو کرنسیوں کو کوئی منظم ریاستی قانون، بین الاقوامی معاہدہ اور مرکزی بینکوں کی ضمانت حاصل نہیں ہو جاتی، اور اس کے اندر پایا جانے والا شدید معاشی خطرہ (غرر) ختم نہیں ہو جاتا، تب تک اس کا کاروبار اور اس میں پیسہ لگانا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے اور اپنے مال کی حفاظت کے لیے اس سے دور رہنا ہی واجب ہے۔

جواب (ب)

اگر کوئی شخص کرپٹو کرنسی میں پہلے سے سرمایہ کاری کر چکا ہو اور اب وہ شرعی حکم معلوم ہونے کے بعد وہاں سے اپنے پیسے نکالنا چاہتا ہے، تو اہل علم اور محدثین کے اصولوں کے مطابق اس کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

1۔ اصل رقم (سرمایہ) نکالنے کا حکم

کرپٹو سے اپنی اصل رقم (جو آپ نے خود اپنی جیب سے انویسٹ کی تھی) واپس نکالنا بالکل جائز بلکہ شرعاً ضروری ہے، تاکہ انسان ایک ایسی تجارت سے فوراً الگ ہو جائے جسے کبار علماء نے ناپسندیدہ یا ناجائز قرار دیا ہے۔

قرآنی دلیل: اللہ تعالیٰ کا اصول ہے:

"وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ" (اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے۔) [سورۃ البقرہ: 279]

2۔ حاصل شدہ منافع کا حکم

اگر پیسے نکالتے وقت آپ کو اصل رقم پر کچھ منافع بھی مل رہا ہو، تو اس کا حکم درج ذیل ہے:

چونکہ یہ منافع ایک ایسے ذریعے سے آیا ہے جسے معتبر فقہی اصولوں کے تحت جائز تسلیم نہیں کیا گیا، اس لیے اس منافع کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے سے ہت الامکان بچنا چاہیے۔

احتیاط اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی اصل رقم اپنے پاس رکھیں اور جو اضافی منافع حاصل ہوا ہے، اسے ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب، مسکین یا رفاہی کام میں صرف مال کی صفائی کی نیت سے دے دیں تاکہ آپ کا دامن اس مشتبہ مال سے پاک ہو جائے۔

3۔ نقصان کی صورت میں حکم

اگر مارکیٹ نیچے گرنے کی وجہ سے آپ کی رقم اصل سرمائے سے کم ہو چکی ہے، تو جتنا بھی سرمایہ باقی بچا ہے اسے فوری طور پر نکال لینا چاہیے تاکہ آپ مزید مالی نقصان اور اس غیر شرعی معاملے میں ملوث رہنے کے گناہ سے بچ سکیں۔

خلاصہ کلام: کرپٹو سے اپنے پیسے نکالنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ اس مشکوک بازار سے اپنے سرمائے کو محفوظ کر کے کسی حلال اور حقیقی معاشی کاروبار میں لگانا ہی دین کا مطلوب و مقصود ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔