بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 019
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 3 مارچ 2026 — ہجری: 14 رمضان 1447ھ
سوال

عورتوں کا کنکی سے گرے بال بیچنا کیسا ہے

الجواب
مختصر جواب

خواتین کا کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں (ٹوٹے ہوئے بالوں) کو جمع کر کے بیچنا شرعاً بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ کتاب و سنت کے اصولوں اور فہمِ سلف صالحین کی روشنی میں انسانی جسم کے کسی بھی حصے (بشمول بال) کی خرید و فروخت کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔

خواتین کا کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں (ٹوٹے ہوئے بالوں) کو جمع کر کے بیچنا شرعاً بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ کتاب و سنت کے اصولوں اور فہمِ سلف صالحین کی روشنی میں انسانی جسم کے کسی بھی حصے (بشمول بال) کی خرید و فروخت کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔

1۔ تکریمِ انسانیت کا اصول: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ" (اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت و تکریم بخشی ہے۔) [سورۃ الاسراء: 70] — انسان کا پورا جسم، اس کے اعضاء اور جدا ہونے والے حصے (بال، ناخن) محترم ہیں؛ انسان تجارتی مال نہیں، اس کے بال بیچنا تکریمِ انسانیت کے خلاف ہے۔

2۔ بال جوڑنے کی ممانعت: گرے بال عام طور پر وگز/ہیئر ایکسٹینشن بنانے والے خریدتے ہیں۔ "لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ" (رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔) [صحیح بخاری: 5937، صحیح مسلم: 2122] — جب استعمال ہی حرام ہو تو اس کے لیے خام مال مہیا کرنا اور اس کی تجارت بھی حرام ہے۔

3۔ ائمہ و لجنہ دائمہ کا موقف: انسانی بالوں کی تجارت باطل ہے؛ "انسانی جسم کا کوئی بھی حصہ مال نہیں ہے"، اس کی بیع فاسد و گناہ ہے؛ اس سے حاصل رقم اکلِ حرام ہے۔

صحیح طریقہ: گرے بالوں/کٹے ناخنوں کو مٹی میں دفن کر دیں یا محفوظ طریقے سے ضائع کر دیں تاکہ غلط استعمال (جادو ٹونا، وگ) نہ ہو اور ستر کی حرمت برقرار رہے۔

خلاصہ: چند پیسوں کی خاطر گرے بال بیچنا ناجائز ہے؛ کمائی سے پرہیز کریں اور بال دبا دیں یا تلف کر دیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔