بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 009-ب
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 5 جنوری 2026
سوال

مصالحہ مرسلہ

الجواب
مختصر جواب

"المصالح المرسلہ" (یا مصالحہ مرسلہ) علمِ اصولِ فقہ کی ایک نہایت اہم اور لطیف اصطلاح ہے۔

"المصالح المرسلہ" (یا مصالحہ مرسلہ) علمِ اصولِ فقہ کی ایک نہایت اہم اور لطیف اصطلاح ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مطلب "آزاد یا غیر مقید مفادات" ہے، اور شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ عوامی بھلائی یا مصلحت ہے جس کے حق میں یا جس کی مخالفت میں شریعت کی کوئی خاص نص (قرآن و حدیث کی صریح دلیل) موجود نہ ہو، لیکن وہ شریعت کے عمومی مقاصد اور مزاج کے موافق ہو۔

مصلحت کی بنیادی اقسام

مصلحتِ معتبرہ: وہ مصلحت جس کی تائید میں شریعت کی صریح نص موجود ہو۔ جیسے جان کی حفاظت کے لیے قصاص کا قانون، یا مال کی حفاظت کے لیے چوری کی سزا۔

مصلحتِ ملغاة: وہ خود ساختہ مصلحت جسے شریعت نے باطل اور مردود قرار دیا ہو۔ جیسے کوئی شخص کہے کہ سود میں معاشی فائدہ اور مصلحت ہے، یا شراب کی تجارت میں منافع ہے؛ تو شریعت کی واضح نصوص نے ایسی مصلحتوں کو منسوخ اور حرام قرار دیا ہے۔

مصلحتِ مرسلہ: وہ مصلحت جس پر شریعت خاموش ہو، یعنی قرآن و سنت میں نہ تو اس کا حکم دیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے منع کیا گیا ہو، بلکہ اسے انسانوں کی مصلحت پر چھوڑ دیا گیا ہو۔

قبولیت کے کڑے شرائط اور ضوابط

کتاب و سنت سے ٹکراؤ نہ ہو: مصلحت کا کوئی بھی دعویٰ شریعت کے قطعی احکام، قرآن کی آیات، احادیثِ صحیحہ یا اجماعِ امت کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ جو مصلحت نص سے ٹکرا جائے، وہ باطل ہے۔

مقاصدِ شریعت کے موافق ہو: وہ مصلحت اسلام کے پانچ بنیادی اہداف کی حفاظت کرتی ہو: دین، جان، عقل، نسل اور مال کی حفاظت۔

حقیقی اور عام مصلحت ہو: وہ بھلائی محض وہمی، خیالی یا کسی خاص طبقے کے ذاتی مفاد پر مبنی نہ ہو، بلکہ یقینی ہو اور اس سے عام معاشرے یا پوری امت کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔

عبادات میں اجتہاد ممنوع ہے: مصالح مرسلہ کا اصول صرف دنیاوی، انتظامی، عدالتی اور معاشرتی معاملات میں لاگو ہوتا ہے۔ عبادات (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کے طریقے) توقیفی ہیں، ان میں مصلحت کے نام پر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا بدعت کہلاتا ہے۔

تاریخِ اسلام سے واضح مثالیں

قرآن مجید کا ایک نسخے میں جمع کرنا: سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے صحابہ کے مشورے سے قرآن کو ایک کتابی شکل میں جمع کیا — دین کی حفاظت کے لیے یہ ایک عظیم مصلحتِ مرسلہ تھی۔

سیدنا عمر کے دور کے انتظامی اقدامات: بیت المال کا دفتری نظام، فوجی چھاؤنیاں، قیدیوں کے لیے جیل خانے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں — یہ سب امور مصالح مرسلہ کے تحت طے پائے۔

موجودہ دور کے قوانین: ٹریفک سگنلز اور لائسنس کے قوانین، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کا نظام، ملکی معیشت کے لیے نوٹوں کی چھپائی — شریعت ان پر خاموش ہے لیکن ان میں معاشرے کا نظم و ضبط اور خیر ہے، اس لیے یہ سب جائز اور مطلوب ہیں۔

خلاصہ کلام: اہلِ علم کے نزدیک مصالح مرسلہ دنیاوی اور انتظامی امور میں امت کی ترقی اور آسانی کے لیے ایک بہترین شرعی بنیاد ہے۔ اسلام ایک متحرک دین ہے جو ہر دور کے نئے انتظامی تقاضوں کو قبول کرتا ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کے طے شدہ اصولوں اور اخلاقی حدود کے اندر ہوں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔