28 کو ماہواری کا دن تھا؛ یومِ عرفہ کا روزہ نہ چھوٹے اس ڈر سے ماہواری روکنے کی ٹیبلیٹ لی۔ عید کے 4 دن ٹیبلیٹ چھوڑ دی۔ کل صبح کی نماز کے بعد سپوٹنگ ہوئی، نمازیں نہیں پڑھیں، اس کے بعد بالکل صاف ہوں۔ کیا غسل کر کے نمازیں شروع کر دوں؟ اور کل ظہر سے جو نماز نہیں پڑھی اس کی قضا پڑھنی ہو گی؟
19 تاریخ کو صبح کی نماز کے بعد تھوڑا سا خون آیا، پھر کچھ نہیں — ظہر پڑھ لی۔ عصر پر پھر تھوڑا سا خون دیکھا، حیض سمجھ کر عصر، مغرب، عشاء چھوڑ دیں؛ اس دوران صرف براؤن ڈسچارج تھا۔ فجر پر کچھ نہیں تھا، نماز پڑھ لی۔ ظہر پر پھر خون دیکھا، حیض سمجھ کر نمازیں نہیں پڑھیں۔ اب کل عصر سے کوئی ڈسچارج نہیں — کیا حیض سمجھ کر 8 دن پورے کیے جائیں؟
1۔ یہ اسپوٹنگ حیض نہیں: حیض کا خون فطری علامات (مخصوص رنگ، بو) کے ساتھ روانی سے بہتا ہے (ابن عثیمین وغیرہ کا ضابطہ)۔ دوا چھوڑنے پر ہارمونز کی تبدیلی سے ایک آدھ قطرہ آ کر بند ہو جائے اور خاتون بالکل صاف ہو جائے تو یہ عارضی خرابی ہے، حیض نہیں۔
1۔ یہ اسپوٹنگ حیض نہیں: حیض کا خون فطری علامات (مخصوص رنگ، بو) کے ساتھ روانی سے بہتا ہے (ابن عثیمین وغیرہ کا ضابطہ)۔ دوا چھوڑنے پر ہارمونز کی تبدیلی سے ایک آدھ قطرہ آ کر بند ہو جائے اور خاتون بالکل صاف ہو جائے تو یہ عارضی خرابی ہے، حیض نہیں۔
2۔ غسل و نماز: غسلِ حیض واجب نہیں — متاثرہ جگہ دھو کر وضو کریں اور نمازیں فوراً شروع کر دیں (احتیاطاً غسل کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں، نماز کی صحت کے لیے وضو کافی ہے)۔
3۔ قضا: جی ہاں — کل ظہر سے اب تک کی تمام چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا واجب ہے، کیونکہ آپ حقیقت میں پاک تھیں اور حیض کے دھوکے میں نمازیں چھوٹیں؛ یہ نمازیں ذمے قرض ہیں، ترتیب کے ساتھ پڑھ لیں۔
خلاصہ: فوراً وضو کر کے نمازیں شروع کریں اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا پڑھیں؛ آئندہ جب تک روانی سے خون شروع نہ ہو خود کو پاک سمجھیں۔
جی نہیں — جب کل عصر سے ہر قسم کا ڈسچارج و خون بالکل بند ہے اور وہ بالکل صاف ہیں، تو حیض سمجھ کر آٹھ دن پورے کرنے کے لیے بیٹھنا جائز نہیں؛ فوراً غسل کر کے نمازیں شروع کریں۔
قاعدہ: جب بھی خون یا رنگین ڈسچارج بند ہو جائے اور خشکی/سفیدی نظر آئے، خاتون پاک ہے؛ پاکیزگی کے دورانیے میں عادت کے دن پورے کرنے کے لیے نمازیں چھوڑنا گناہ ہے۔ دوبارہ خون آئے تو اس وقت نماز چھوڑ دیں، جب تک صفائی ہے نماز فرض ہے۔
قضا کا حکم: اگر یہ سلسلہ (19 کی صبح سے کل عصر تک) اس کے حیض کے عام دنوں میں ہوا اور پورا دورانیہ کم از کم تین دن و تین راتیں (72 گھنٹے) بنتا ہے تو یہ حیض تھا — چھوٹی نمازوں کی قضا نہیں۔ اگر پورا وقت تین دن سے کم تھا اور صرف ہلکے قطرے/براؤن ڈسچارج تھا تو یہ استحاضہ (بیماری کا خون) ہے — حیض سمجھ کر چھوڑی گئی تمام نمازوں کی قضا واجب ہے۔
لہذا فوراً غسل کر کے نمازیں شروع کریں؛ دورانیہ تین دن سے کم تھا تو پچھلی نمازوں کی قضا بھی پڑھ لیں۔