عورتوں کا کنکی سے گرے بال بیچنا کیسا ہے
خواتین کا کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں (ٹوٹے ہوئے بالوں) کو جمع کر کے بیچنا شرعاً بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ کتاب و سنت کے اصولوں اور فہمِ سلف صالحین کی روشنی میں انسانی جسم کے کسی بھی حصے (بشمول بال) کی خرید و فروخت کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
خواتین کا کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں (ٹوٹے ہوئے بالوں) کو جمع کر کے بیچنا شرعاً بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ کتاب و سنت کے اصولوں اور فہمِ سلف صالحین کی روشنی میں انسانی جسم کے کسی بھی حصے (بشمول بال) کی خرید و فروخت کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
1۔ تکریمِ انسانیت کا اصول: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ" (اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت و تکریم بخشی ہے۔) [سورۃ الاسراء: 70] — انسان کا پورا جسم، اس کے اعضاء اور جدا ہونے والے حصے (بال، ناخن) محترم ہیں؛ انسان تجارتی مال نہیں، اس کے بال بیچنا تکریمِ انسانیت کے خلاف ہے۔
2۔ بال جوڑنے کی ممانعت: گرے بال عام طور پر وگز/ہیئر ایکسٹینشن بنانے والے خریدتے ہیں۔ "لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ" (رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔) [صحیح بخاری: 5937، صحیح مسلم: 2122] — جب استعمال ہی حرام ہو تو اس کے لیے خام مال مہیا کرنا اور اس کی تجارت بھی حرام ہے۔
3۔ ائمہ و لجنہ دائمہ کا موقف: انسانی بالوں کی تجارت باطل ہے؛ "انسانی جسم کا کوئی بھی حصہ مال نہیں ہے"، اس کی بیع فاسد و گناہ ہے؛ اس سے حاصل رقم اکلِ حرام ہے۔
صحیح طریقہ: گرے بالوں/کٹے ناخنوں کو مٹی میں دفن کر دیں یا محفوظ طریقے سے ضائع کر دیں تاکہ غلط استعمال (جادو ٹونا، وگ) نہ ہو اور ستر کی حرمت برقرار رہے۔
خلاصہ: چند پیسوں کی خاطر گرے بال بیچنا ناجائز ہے؛ کمائی سے پرہیز کریں اور بال دبا دیں یا تلف کر دیں۔