بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 020
موضوع: حج و عمرہ
تاریخ: 9 مارچ 2026 — ہجری: 20 رمضان 1447ھ
سوال

کیا کسی پر اگر ایک وقت مین پیسے ا گیے جس سے اس پہ حج فرض ہو گیا لیکن حج کے دن نہیں ہین اور وہ اگلے سال کا انتظار میں ہے اور پیسے خرچ ہو گیے تو کیا وہ اب بھی فرض ہے

الجواب
مختصر جواب

خلاصہ: اگر پیسے حج کا وقت/رجسٹریشن کا موقع آنے سے پہلے جائز ضرورتوں میں خرچ ہو گئے یا ضائع ہو گئے تو اب حج فرض نہیں اور نہ وہ گناہ گار ہے — حج کی فرضیت کے لیے "حج کا وقت آنا" اور "مال کا موجود ہونا" دونوں کا ایک وقت میں جمع ہونا ضروری ہے۔

خلاصہ: اگر پیسے حج کا وقت/رجسٹریشن کا موقع آنے سے پہلے جائز ضرورتوں میں خرچ ہو گئے یا ضائع ہو گئے تو اب حج فرض نہیں اور نہ وہ گناہ گار ہے — حج کی فرضیت کے لیے "حج کا وقت آنا" اور "مال کا موجود ہونا" دونوں کا ایک وقت میں جمع ہونا ضروری ہے۔

1۔ استطاعت و وقت کا ملاپ: "وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا" [سورۃ آل عمران: 97] — فرضیت اس وقت مستقر ہوتی ہے جب اشہرِ حج آ جائیں اور مالی طاقت موجود ہو؛ وقت سے پہلے مال ختم ہو جائے تو شرطِ فرضیت باقی نہیں رہی۔

2۔ خرچ کی نوعیت: (الف) جائز ضرورت (مکان، قرض، علاج، بچوں کی شادی/تعلیم) یا چوری/ضیاع — بالاتفاق کوئی گناہ نہیں، ذمے حج کا قرض نہیں۔ (ب) حج سے بچنے کے لیے قصداً اڑا دینا/عیاشی — نیت کی خرابی سے گناہ گار؛ اب مکلف نہیں رہا لیکن توبہ کرے اور آئندہ پیسے آئیں تو سب سے پہلے حج ادا کرے۔

خلاصہ: رقم حج کی تیاری کے دنوں سے پہلے جائز ضروریات میں خرچ ہو چکی ہو تو پرسکون رہیں — حج فرض نہیں، گناہ نہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔