بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 042
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 19 جولائی 2026 — ہجری: 3 صفر 1448ھ
سوال

اگر کتے کا گھر میں رکھنا منع ہے سوائے حفاظت اور شکار کے، تو کیا کتے کو خریدنا اور بیچنا بھی منع ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ قیمت کی ممانعت: (الف) ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ» (صحیح بخاری: 2237، صحیح مسلم: 1561)۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — کتے کی خرید و فروخت اور اس کی قیمت لینا مطلقاً حرام و ناجائز ہے، خواہ کتا عام ہو یا شکار/حفاظت کے لیے۔ رکھنے کی رخصت سے بیع کا حلال ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

1۔ قیمت کی ممانعت: (الف) ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ» (صحیح بخاری: 2237، صحیح مسلم: 1561)۔ (ب) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ: «ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ» (صحیح مسلم: 1568)۔ (ج) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: «لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ» (سنن ابی داؤد: 3484)۔

2۔ شکاری کتے کی استثنائی روایات ("إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ") ضعیف ہیں — نسائی، بیہقی، ابن عبد البر و البانی کی تحقیق؛ لہٰذا ممانعت کا عام حکم ہر کتے پر ہے۔ کتا شرعاً مالِ متقوم نہیں — اس کی بیع باطل؛ نسل کشی (بریڈنگ) و باقاعدہ تجارت حرام کمائی ہے۔

3۔ حاصل کرنے کا جائز طریقہ: (الف) ہدیہ/تحفہ یا مفت مانگ کر لینا — بہترین طریقہ۔ (ب) شدید مجبوری کی رخصت: حقیقی شرعی ضرورت ہو اور کوئی مفت دینے پر تیار نہ ہو تو خریدار کے لیے ضرورت کی خاطر رقم دے کر لینا جائز ہو جاتا ہے — گناہ بیچنے والے پر، اور بیچنے والے کے لیے قیمت کھانا بہرحال حرام و خبیث رہے گا۔

(ج) گھر میں بلا ضرورت کتا رکھنا بھی روزانہ ایک یا دو قیراط نیکیوں کی کمی کا سبب ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔