بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 047
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 18 اگست 2026 — ہجری: 4 ربیع الاول 1448ھ
سوال

اگر کوئی اپنا مال وقف کرنا چاہے جب کہ بچے اس کے صاحبِ استطاعت ہوں — تو کیا کوئی شخص اپنا پورا مال وقف کر سکتا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — تندرست و ہوش مند شخص (مرض الموت میں نہ ہو) کا وقف نافذ ہو جاتا ہے، لیکن پورا مال وقف کر دینا سنت و فہمِ سلف کی روشنی میں پسندیدہ نہیں۔

1۔ حالتِ صحت میں: انسان اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار رکھتا ہے، مگر سنت یہ ہے کہ اپنے و اہلِ خانہ کے لیے بھی بچا کر رکھے: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے توبہ کی تکمیل میں سارا مال صدقہ کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» (صحیح بخاری: 2757، صحیح مسلم: 2769)۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تبوک میں سارا مال پیش کرنا ان کے بے مثال ایمان، توکل و کمانے کی صلاحیت کی بنا پر خاص صورت تھی — عمومی حکم نہیں؛ عام حالات میں نبی ﷺ نے خود یا ورثاء کو خالی ہاتھ چھوڑنے سے روکا۔

2۔ بچوں کے صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت: (الف) نیت خالص اللہ کی رضا ہو — بچوں کو وراثت سے محروم کرنے کی نیت ہو تو حیلہ سازی و گناہ؛ (ب) وراثت کا نظام اللہ کا مقرر کردہ ہے (﴿فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ﴾) — پورا ترکہ ختم کر دینا سلف کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔

3۔ موت کے بعد سے معلق ہو تو وصیت: ایک تہائی (1/3) سے زیادہ نافذ نہیں، خواہ بچے کتنے ہی مالدار ہوں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: «الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ» (صحیح بخاری: 1295، صحیح مسلم: 1628)۔

بہترین طریقہ: زندگی میں مناسب حصہ (تہائی/چوتھائی/نصف) وقف کر کے صدقہِ جاریہ بنائے، باقی اپنے پاس رکھے تاکہ وفات کے بعد ورثاء میں شرعی تقسیم ہو۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔