اگر کتے کا گھر میں رکھنا منع ہے سوائے حفاظت اور شکار کے، تو کیا کتے کو خریدنا اور بیچنا بھی منع ہے؟
1۔ قیمت کی ممانعت: (الف) ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ» (صحیح بخاری: 2237، صحیح مسلم: 1561)۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — کتے کی خرید و فروخت اور اس کی قیمت لینا مطلقاً حرام و ناجائز ہے، خواہ کتا عام ہو یا شکار/حفاظت کے لیے۔ رکھنے کی رخصت سے بیع کا حلال ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
1۔ قیمت کی ممانعت: (الف) ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ» (صحیح بخاری: 2237، صحیح مسلم: 1561)۔ (ب) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ: «ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ» (صحیح مسلم: 1568)۔ (ج) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: «لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ» (سنن ابی داؤد: 3484)۔
2۔ شکاری کتے کی استثنائی روایات ("إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ") ضعیف ہیں — نسائی، بیہقی، ابن عبد البر و البانی کی تحقیق؛ لہٰذا ممانعت کا عام حکم ہر کتے پر ہے۔ کتا شرعاً مالِ متقوم نہیں — اس کی بیع باطل؛ نسل کشی (بریڈنگ) و باقاعدہ تجارت حرام کمائی ہے۔
3۔ حاصل کرنے کا جائز طریقہ: (الف) ہدیہ/تحفہ یا مفت مانگ کر لینا — بہترین طریقہ۔ (ب) شدید مجبوری کی رخصت: حقیقی شرعی ضرورت ہو اور کوئی مفت دینے پر تیار نہ ہو تو خریدار کے لیے ضرورت کی خاطر رقم دے کر لینا جائز ہو جاتا ہے — گناہ بیچنے والے پر، اور بیچنے والے کے لیے قیمت کھانا بہرحال حرام و خبیث رہے گا۔
(ج) گھر میں بلا ضرورت کتا رکھنا بھی روزانہ ایک یا دو قیراط نیکیوں کی کمی کا سبب ہے۔