بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 044
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 31 جولائی 2026 — ہجری: 15 صفر 1448ھ
سوال

چاندی کی کوئی مقدار ہے مرد کے لیے پہننے کی مسنون؟

الجواب
مختصر جواب

مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی سنت سے ثابت ہے، لیکن وزن/مقدار کی کوئی خاص حد صحیح احادیث سے متعین نہیں۔ 1۔

مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی سنت سے ثابت ہے، لیکن وزن/مقدار کی کوئی خاص حد صحیح احادیث سے متعین نہیں۔

1۔ "ایک مثقال" والی روایت: «اتَّخِذْهُ مِنْ فِضَّةٍ، وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا» (ابی داؤد، ترمذی، نسائی) — محدثین (بیہقی، نووی، ابن حجر و معاصرین) نے سند ضعیف قرار دی (راویوں کی جہالت و انقطاع)؛ لہٰذا کوئی خاص وزن شرعاً لازم نہیں۔

2۔ صحیح احادیث: نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی و پہنی: «اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا» (صحیح بخاری: 5866، صحیح مسلم: 2092)؛ نگینے پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» نقش (مہر)؛ کوئی خاص وزن مقرر نہیں فرمایا۔

3۔ ضوابط: (الف) مرد کے لیے چاندی صرف انگوٹھی تک — کڑا، بریسلیٹ، چین وغیرہ عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز؛ (ب) عرف و اعتدال: وزن معتدل ہو، اسراف/فخر/تکبر ظاہر نہ ہو؛ (ج) احتیاطاً ایک مثقال (تقریباً 4.25–4.5 گرام) یا کم رکھنا مناسب و پسندیدہ، مگر اس سے زیادہ بھی تکبر و اسراف سے پاک ہو تو گناہ نہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔