بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 040
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 7 جولائی 2026 — ہجری: 21 محرم 1448ھ
سوال

نامحرم کو چھونا گناہ ہے — لیکن اگر کوئی بدزبان نامحرم ہراساں کرے تو کیا عورت اسے تھپڑ مار سکتی ہے؟ کیا تھپڑ مارنا نامحرم کو چھونے کے مترادف ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ فرق: ممنوع چھونا (مصافحہ، ہاتھ پکڑنا وغیرہ) شہوت و فتنے سے متعلق ہے — نامحرم عورت کو چھونا سر میں لوہے کی کیل ٹھونکنے سے سخت تر قرار دیا گیا (الطبرانی)۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — بدزبان/ہراساں کرنے والے نامحرم کو عزت کے دفاع میں تھپڑ مارنا نامحرم کو چھونے کے مترادف ہرگز نہیں؛ دونوں الگ شرعی امور ہیں۔

1۔ فرق: ممنوع چھونا (مصافحہ، ہاتھ پکڑنا وغیرہ) شہوت و فتنے سے متعلق ہے — نامحرم عورت کو چھونا سر میں لوہے کی کیل ٹھونکنے سے سخت تر قرار دیا گیا (الطبرانی)۔ دفاعی ضرب فقہ میں "دفاع" ہے، "چھونا" نہیں — جیسے چور کو پکڑنے کے لیے ہاتھ پکڑنا۔

2۔ عزت کے دفاع کا حکم: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ» (سنن ابی داؤد: 4772، سنن ترمذی: 1421) — عزت و ناموس کی حفاظت جائز بلکہ شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔

3۔ حدود و احتیاط: (الف) ضرورت کے بقدر — روکنے/بھگانے سے زیادہ مارنا یا انتقام جائز نہیں؛ (ب) چہرے پر مارنے سے احتیاط — نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے؛ (ج) پہلے زبانی دفاع یا وہاں سے ہٹ جانا ممکن ہو تو وہی کریں؛ باز نہ آئے تو جسمانی دفاع جائز۔

4۔ تطبیق: بہن کا موقف عام حالات میں درست؛ مگر ہراسانی کی صورت میں تھپڑ "چھونا" نہیں "دفاع" ہے۔ نہ چھونا بھی غیرت ہے اور بدزبان کو تھپڑ لگانا بھی غیرت و عزت کی نشانی ہے۔

خلاصہ: دفاع میں تھپڑ مارنا چھونے کے گناہ کے مترادف نہیں — جائز دفاعی عمل ہے، بشرطیکہ ضرورت کے بقدر ہو اور نیت انتقام نہ ہو۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔