زکاۃ کے حساب کی تفصیل فرمائیں: (۱) کیا تنخواہ ملتے ہی اس پر زکاۃ ہے یا سال گزرنے پر؟ (۲) کمپنیوں کے شیئرز پر زکاۃ کیسے نکالی جائے؟ (۳) کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن وغیرہ) کے اثاثوں پر بھی زکاۃ ہے؟ اور نصاب کی مقدار کیا ہے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم (زکاۃ) ہے؛ اور سونے میں تم پر کچھ نہیں یہاں تک کہ بیس دینار ہو جائیں، جب بیس دینار ہو جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو نصف دینار ہے... اور کسی مال میں زکاۃ نہیں جب تک اس پر سال نہ گزر جائے» (سنن ابی داؤد: ۱۵۷۳)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ بنیاد: نصاب اور حول:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم (زکاۃ) ہے؛ اور سونے میں تم پر کچھ نہیں یہاں تک کہ بیس دینار ہو جائیں، جب بیس دینار ہو جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو نصف دینار ہے... اور کسی مال میں زکاۃ نہیں جب تک اس پر سال نہ گزر جائے» (سنن ابی داؤد: ۱۵۷۳)۔ اس حدیث سے تین باتیں ثابت ہوئیں: نصاب چاندی کا دو سو درہم (موجودہ وزن سے تقریباً ۵۹۵ گرام چاندی) اور سونے کا بیس مثقال (تقریباً ۸۵ گرام سونا) ہے؛ شرحِ زکاۃ ربع العشر یعنی ڈھائی فیصد (۲.۵٪) ہے؛ اور مال پر قمری سال (حول) کا گزرنا شرط ہے۔
۲۔ تنخواہ پر زکاۃ:
تنخواہ فی نفسہ آمدنی ہے؛ اس کے وصول ہوتے ہی اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی۔ جمہور اہلِ علم اور لجنہ دائمہ کا موقف یہ ہے کہ تنخواہ میں سے جو رقم بچت ہو کر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر حول گزر جائے، اس پر ڈھائی فیصد زکاۃ ہے؛ جو رقم سال کے دوران ضروریات پر خرچ ہو گئی اس پر کوئی زکاۃ نہیں۔ حساب کا آسان اور درست طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے ایک قمری تاریخ مقرر کر لے (مثلاً یکم رمضان)؛ اس دن اس کے پاس موجود کل نقدی و بچت — خواہ وہ مختلف مہینوں کی تنخواہوں سے جمع ہوئی ہو — اگر نصاب کے برابر یا زائد ہو تو اس پوری رقم پر ڈھائی فیصد ادا کرے، کیونکہ بعد میں آنے والا مال پہلے مال کے حول میں شامل ہو جاتا ہے۔ بعض معاصر اہلِ علم نے فصلوں پر قیاس کر کے وصولی کے وقت زکاۃ کا قول اختیار کیا ہے، مگر راجح اور معمول بہ قولِ جمہور و لجنہ یہی حول والا ہے۔
۳۔ شیئرز پر زکاۃ:
اس میں نیت کے اعتبار سے دو صورتیں ہیں:
۴۔ کرپٹو اثاثوں پر زکاۃ:
معاصر اہلِ علم کی غالب تحقیق کے مطابق کرپٹو کرنسی مال اور ثمن کے حکم میں ہے، اس لیے اس پر زکاۃ کے وہی اصول لاگو ہوتے ہیں جو نقدی پر ہوتے ہیں: اگر کسی کے پاس کرپٹو اثاثے ہوں جن کی قیمت — بذاتِ خود یا اس کی نقدی، سونے چاندی کے ساتھ ملا کر — نصاب کو پہنچتی ہو اور ان پر حول گزر جائے، تو زکاۃ کے دن کی بازاری قیمت پر ڈھائی فیصد ادا کرنا ہوگا۔ قیمت کے اتار چڑھاؤ کا الگ اعتبار نہیں؛ حساب اسی دن کی قیمت سے ہوگا جس دن زکاۃ واجب ہوئی، اور اس دوران بڑھا ہوا منافع بھی اصل کے ساتھ شامل ہوگا۔ زکاۃ کرپٹو ہی کی صورت میں بھی دی جا سکتی ہے اور اس کی قیمت بطور نقد رقم بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ البتہ واضح رہے کہ یہ بیان صرف زکاۃ کے حساب تک محدود ہے؛ کرپٹو کی لیوریج و مارجن والی تجارت کا عدمِ جواز الگ مسئلہ ہے جو اس سے پہلے (سوال نمبر ۶) میں بیان ہو چکا ہے۔
مقاصدی تنبیہ: زکاۃ مال کی طہارت اور اس میں برکت کا ذریعہ ہے اور فقراء کا وہ "حقِ معلوم" ہے جو مالدار کے مال میں اللہ نے رکھا ہے: ﴿وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ * لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ المعارج: ۲۴–۲۵)۔ نصاب و حول کی شرائط اسی حکمت پر ہیں کہ زکاۃ گردش کرنے والے محفوظ مال پر ہو، گزر بسر کی آمدنی پر نہیں؛ اس لیے اس فرض کی ادائیگی میں سستی یا تاخیر حق داروں کے حق کو تلف کرتی ہے۔