کیا احناف کے نزدیک لڑکے کے لئے گائے میں ایک حصہ رکھ سکتے ہیں
جی ہاں، بالکل۔ فقہ حنفی کے مطابق لڑکے کے عقیقے کے لیے گائے میں ایک حصہ رکھنا بالکل جائز اور کافی ہے، اور اس سے عقیقے کا مستحب عمل مکمل طور پر ادا ہو جاتا ہے۔
جی ہاں، بالکل۔ فقہ حنفی کے مطابق لڑکے کے عقیقے کے لیے گائے میں ایک حصہ رکھنا بالکل جائز اور کافی ہے، اور اس سے عقیقے کا مستحب عمل مکمل طور پر ادا ہو جاتا ہے۔
اس حوالے سے احناف کے اصول اور فتاویٰ کی روشنی میں درج ذیل پہلو قابلِ ذکر ہیں:
1۔ لڑکے اور لڑکی کے لیے ایک ہی حکم:
دیگر بعض ائمہ کے برعکس، فقہ حنفی میں عقیقے کے معاملے میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان فرق نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں کے لیے بنیادی درجہ ایک ایک جانور (یا گائے میں ایک ایک حصہ) ہی رکھا گیا ہے۔ لہٰذا حنفی مکتبِ فکر کے نزدیک لڑکے کے لیے ایک حصہ رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔
2۔ گائے کا ایک حصہ ایک بکری کے برابر ہے:
شریعت کے قاعدے کے مطابق گائے یا اونٹ کا ایک حصہ ایک مستقل چھوٹے جانور (بکری یا دنبے) کے قائم مقام ہوتا ہے۔ چونکہ حنفی فقہاء کے نزدیک لڑکے کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے سے عقیقہ ہو جاتا ہے، اس لیے گائے کا ایک حصہ بھی ایک بکری کی طرح کافی ہے۔
3۔ دو حصے رکھنا افضل ہے، لازم نہیں:
اگر کوئی شخص مالی وسعت رکھتا ہو اور وہ لڑکے کے لیے گائے میں دو حصے رکھ لے، تو احناف کے نزدیک بھی یہ زیادہ افضل اور بہتر ہے تاکہ دوسری احادیث (جن میں لڑکے کے لیے دو کا ذکر ہے) پر بھی عمل ہو جائے۔ یعنی حدیث: "لڑکے کی طرف سے دو بکریاں (ایک جیسی) اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری" (سنن ترمذی: 1513، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا؛ سنن ابی داؤد: 2842)۔ لیکن اگر کوئی مالی مجبوری یا کسی اور وجہ سے صرف ایک حصہ رکھتا ہے، تو عقیقہ شرعاً بالکل صحیح مانا جائے گا اور اس میں کوئی نقص یا کمی نہیں ہوگی۔
خلاصہ: سائلہ کی ہمشیرہ اگر اپنے بیٹوں کے لیے گائے میں ایک ایک حصہ بھی رکھ لیں گی، تو فقہ حنفی کے مطابق ان کا عقیقہ سو فیصد درست اور ادا ہو جائے گا۔