بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 074
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

مشت زنی (استمناء بالید) کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور جو نوجوان اس عادت میں مبتلا ہو چکا ہو، اس کے لیے اس سے نجات کا شرعی اور عملی طریقہ کیا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

جمہور اہلِ علم کے نزدیک مشت زنی حرام ہے، اور یہی اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن باز و شیخ ابن عثیمین رحمھم اللہ کے فتاویٰ کا مفاد ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ اس عادت کی حرمت:

جمہور اہلِ علم کے نزدیک مشت زنی حرام ہے، اور یہی اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن باز و شیخ ابن عثیمین رحمھم اللہ کے فتاویٰ کا مفاد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۝ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ۝ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾ (سورۃ المؤمنون: ۵–۷)۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے انہی آیات سے استدلال کیا ہے کہ بیوی اور مملوکہ کے سوا ہر ذریعے سے شہوت پوری کرنا حد سے تجاوز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو تیسری صورت کی طرف رہنمائی نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا: «اے نوجوانو! جو تم میں سے نکاح کی استطاعت رکھے وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو جھکانے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا ہے؛ اور جو استطاعت نہ رکھے وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے» (صحیح بخاری: ۵۰۶۶؛ صحیح مسلم: ۱۴۰۰)۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ "عادتِ سریہ" حاجی اور غیر حاجی سب کے لیے حرام ہے (مجموع فتاویٰ ابن باز: ۱۷/۱۳۸)۔

۲۔ روزے کی حالت میں اس کا حکم:

اگر روزے دار نے دن میں یہ عمل کیا اور منی خارج ہو گئی تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؛ اس دن کی قضا لازم آئے گی، کفارہ نہیں (کیونکہ کفارہ صرف جماع میں ہے)، اور توبہ بھی واجب ہے، کیونکہ اس نے گناہ کے ساتھ روزے کی حرمت بھی پامال کی۔

۳۔ اختلاف کی حقیقت:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ یہ عمل اکثر علماء کے نزدیک حرام ہے، البتہ بعض سلف و خلف نے اس صورت میں رخصت دی ہے جب آدمی کو زنا میں پڑنے یا بیماری کا حقیقی خوف ہو اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو (الفتاویٰ الکبریٰ: ۱/۳۰۲)۔ یہ رخصت خالص اضطراری صورت کے لیے ہے، معمول کی عادت کے لیے نہیں؛ راجح اور محتاط قول حرمت ہی ہے۔

۴۔ نجات کا شرعی و عملی طریقہ:

(الف) سچی توبہ، استغفار اور یہ استحضار کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ (ب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا علاج: استطاعت ہو تو نکاح میں جلدی، ورنہ کثرت سے نفلی روزے۔ (ج) نظر کی حفاظت: ﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾ (سورۃ النور: ۳۰) — اور تمام محرکات، یعنی فحش تصاویر و ویڈیوز اور تنہائی میں بے قید موبائل کا استعمال، مکمل طور پر چھوڑ دینا؛ اکثر اوقات یہی محرکات اس عادت کی اصل جڑ ہوتے ہیں۔ (د) تنہائی کم کرنا، نیک صحبت اختیار کرنا، اور وقت کو علم، عبادت، ورزش اور مفید مصروفیت سے بھرنا۔ (ہ) بار بار لغزش ہو جائے تو مایوس نہ ہونا؛ ہر بار نئے عزم سے توبہ کرنا، کیونکہ مایوسی بھی شیطان کا ایک حربہ ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک بھی اس عادت کی کثرت نفسیاتی کمزوری اور ازدواجی زندگی میں بے رغبتی جیسے نقصانات پیدا کرتی ہے۔

مقاصدی تنبیہ: شریعت نے حفظِ عفت اور حفظِ نسل کو اپنے مقاصد میں رکھا اور شہوت کی تسکین کا ایک ہی پاکیزہ راستہ — نکاح — مقرر کیا ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ وقتی لذت کے عوض ضمیر کی کمزوری اور گناہ کی خوئے پیدا کرتا ہے؛ اس لیے عقلمند وہی ہے جو نبوی ڈھال، یعنی روزہ و صبر و نگاہ کی حفاظت، کو اختیار کرے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔