موسیقی اور گانے بجانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ آلاتِ موسیقی سننے، گلوکاروں کے گانے سننے، اور عام یا دینی ویڈیوز میں پس منظر کی موسیقی (background music) استعمال کرنے یا سننے کا کیا حکم ہے؟
جمہور اہلِ علم اور اللجنۃ الدائمہ کے فتاویٰ کے مطابق آلاتِ موسیقی (معازف) بجانا اور ان کے ساتھ گانا سننا حرام ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ آلاتِ موسیقی اور گانے کی حرمت:
جمہور اہلِ علم اور اللجنۃ الدائمہ کے فتاویٰ کے مطابق آلاتِ موسیقی (معازف) بجانا اور ان کے ساتھ گانا سننا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ (سورۃ لقمان: ۶) — حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے "لہو الحدیث" کی تفسیر گانے بجانے سے کی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «میری امت میں ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلاتِ موسیقی کو حلال سمجھ بیٹھیں گے» (صحیح بخاری: ۵۵۹۰)۔ موسیقی کو زنا و شراب جیسی قطعی حرام چیزوں کے ساتھ ایک ہی سیاق میں ذکر کرنا اس کی حرمت کی کھلی دلیل ہے۔ اللجنۃ الدائمہ فرماتی ہے: گانے سننا حرام ہے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۲۶/۲۲۲)، اور آلاتِ موسیقی بجانا اور سننا حرام ہے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۲۶/۲۴۸)۔
۲۔ مستثنیٰ صورت — دف:
سنت سے صرف ایک محدود صورت مستثنیٰ ہے: عید کے دن، شادی بیاہ کے موقع پر اور طویل غیر حاضری کے بعد آنے والے کی خوشی میں خواتین کا دف بجانا اور پاکیزہ اشعار پڑھنا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں عید کے دن دو بچیاں اشعار پڑھ رہی تھیں؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں "شیطان کی بانسری" کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «انہیں چھوڑ دو؛ ہر قوم کے لیے ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے» (صحیح بخاری: ۹۴۹؛ صحیح مسلم: ۸۹۲)۔ اس کے سوا مردوں کا گانا بجانا، آلات کے ساتھ گانا، فحش یا بے ہودہ کلام، اور عورت کا نامحرم مردوں کے سامنے گانا — یہ سب حرام ہے۔
۳۔ "دینی" نام سے موسیقی اور پس منظر کی موسیقی:
اگر نعت یا نشید کے ساتھ آلاتِ موسیقی ہوں، یا انہیں عورتیں مردوں کے سامنے پڑھیں، تو محض "دینی" نام دے دینے سے حکم نہیں بدلتا؛ اللجنۃ الدائمہ نے اپنے فتوے میں اس کی صراحت کی ہے (فتاویٰ اسلامیہ: ۴/۵۳۲)۔ ویڈیو بنانے والے کا اپنی ویڈیو (خواہ دینی ہو یا دنیوی) میں موسیقی شامل کرنا اس حرام کو پھیلانا ہے، لہٰذا جائز نہیں؛ دینی مواد بنانے والوں کو موسیقی کے بغیر خالص آواز پر اکتفا کرنا چاہیے۔ ناظر کے لیے حکم یہ ہے کہ جہاں اختیار ہو وہاں ایسی ویڈیو سے بچے یا اس کی آواز بند کر دے۔ البتہ بازار، دکان یا سفر میں بلا ارادہ کان میں پڑ جانے والی آواز پر گناہ نہیں؛ شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممنوع "قصداً توجہ سے سننا" ہے، محض بے ارادہ آواز کا پڑ جانا نہیں، البتہ حسبِ استطاعت برائی سے روکنا چاہیے (فتاویٰ اسلامیہ: ۴/۳۸۹)۔
۴۔ اختلاف کا ذکر:
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے آلاتِ موسیقی کی اباحت کی رائے اختیار کی تھی، مگر جمہور اہلِ علم نے صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث اور دیگر دلائل کی روشنی میں اس رائے کو رد کیا ہے؛ راجح قول حرمت ہی ہے۔
مقاصدی تنبیہ: شریعت نے دل کی حفاظت کو مقصد بنایا ہے؛ موسیقی کا عام اثر ذکرِ الٰہی سے غفلت، دل کی سختی اور شہوات کی طرف میلان ہے۔ جس چیز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کی بانسری سے موسوم کیا، اس سے دوری ہی حفظِ دین و حفظِ قلب کا تقاضا ہے۔