میں ایک عمر رسیدہ خاتون ہوں، میرا کوئی محرم ساتھ جانے کے لیے موجود نہیں۔ کیا میں خواتین کے گروپ یا عمرہ کمپنی کی نگرانی میں بغیر محرم کے عمرہ یا حج کر سکتی ہوں؟ سعودی حکومت نے اب عورت کو بغیر محرم کے عمرہ و حج کی اجازت دے دی ہے، تو کیا اب یہ سفر جائز ہو گیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، اور کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ جائے مگر اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ “ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں اور میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ اصول — سفر میں محرم کی شرط نص سے ثابت ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، اور کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ جائے مگر اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں اور میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ حج کرو“ (صحیح البخاری: ۱۸۶۲؛ صحیح مسلم: ۱۳۴۱)۔ غور کیجیے: یہاں مقصد حج جیسی عظیم عبادت تھی اور جہاد کی ڈیوٹی بھی سامنے تھی، پھر بھی آپ ﷺ نے عورت کو اکیلا بھیجنے کی اجازت نہیں دی بلکہ شوہر کو اس کے ساتھ جانے کا حکم دیا۔ اسی طرح فرمایا: ”جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ ایک دن و رات کی مسافت کا سفر بغیر محرم کے کرے“ (صحیح مسلم: ۱۳۳۹)۔
۲۔ حکومتی اجازت شرعی حکم نہیں بدلتی:
کسی ملک کا ویزہ و انتظامی قانون بدل جانا شرعی حکم نہیں بدلتا۔ سعودی حکومت کی اجازت ایک انتظامی سہولت ہے؛ وہ اس حدیث کو منسوخ نہیں کرتی۔ شرعی حکم وہی ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہے، اور وہ یہ ہے کہ عورت سفر — خواہ حج و عمرہ ہی کیوں نہ ہو — محرم کے بغیر نہیں کر سکتی۔ خواتین کا گروپ یا کمپنی کی نگرانی محرم کے قائم مقام نہیں ہے: محرم وہ رشتہ دار ہے جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو (باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ)؛ اجنبی مردوں کی موجودگی والی صحبت اس شرط کو پورا نہیں کرتی۔
۳۔ علماء کا اختلاف — دیانت داری سے اس کی حد بھی واضح ہو:
یہ مسئلہ قدیم سے مختلف فیہ ہے۔ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کی طرف یہ قول منسوب ہے کہ فرض حج میں قابلِ اعتماد رفقاء (رفقہ مأمونہ) کے ساتھ عورت جا سکتی ہے، اور وہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حج کو دلیل بناتے ہیں — حالانکہ صحیح البخاری (۱۸۶۰) کی روایت میں ان کے محرموں کے ساتھ ہونے کی تصریحات بھی موجود ہیں۔ جبکہ احناف، حنابلہ اور اہلِ حدیث کا قول یہی ہے کہ محرم شرط ہے، اور اللجنۃ الدائمہ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ جس عورت کا محرم نہ ہو اس پر حج فرض ہی نہیں، کیونکہ محرم کا ہونا استطاعت کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے حج اسی پر فرض کیا ہے جو استطاعت رکھے (سورۃ آل عمران: ۹۷)۔ مزید یہ کہ گروپ والے قول کے قائلین بھی نفلی حج و عمرے میں محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہیں دیتے — تو عمرہ، جو نفلی سفر ہے، اس رعایت سے بھی خارج ہے۔
۴۔ راجح حکم اور سائلہ کے لیے رہنمائی:
راجح یہی ہے کہ عورت بغیر محرم کے حج یا عمرہ کے سفر پر نہ جائے — خواہ گروپ ہو یا کمپنی کی نگرانی۔ سائلہ مطمئن رہیں: اگر محرم میسر نہیں تو حج آپ پر فرض ہی نہیں، اور عمرہ مؤخر کرنے میں کوئی گناہ نہیں؛ اللہ نیت کا اجر ضرور دیتا ہے۔ کوشش یہ ہو کہ کوئی محرم (بیٹا، بھائی، بھتیجا وغیرہ) ساتھ چلے، یا شادی شدہ بیٹی و داماد (داماد محرم ہے) کے ساتھ سفر بنے۔ اگر کوئی خاتون اس حکم کے باوجود جا چکی ہو تو حج کے ارکان ادا ہونے سے حج درست ہو جاتا ہے، البتہ سفر اختیار کرنے کی نافرمانی کا گناہ الگ رہتا ہے، جس پر توبہ لازم ہے — لیکن یہ صورت آئندہ کے لیے دلیل نہیں بن سکتی۔
مقاصدی تنبیہ: محرم کی شرط عورت کی عبادت میں رکاوٹ نہیں، اس کی عزت و حفاظت کا قلعہ ہے؛ شریعت نے سفر کے فتنوں سے بچاؤ کو عبادت کی تکمیل کا حصہ بنایا ہے۔ جس نے حفاظت کا یہ حصار چھوڑا، اس نے مقصدِ شریعت کے خلاف قدم اٹھایا — ظاہری سہولت کے باوجود۔