بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 089
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

میں نے نوجوانی میں سستی اور غفلت کی وجہ سے برسوں نمازیں نہیں پڑھیں۔ اب اللہ نے توبہ کی توفیق دی ہے اور میں پابندی سے نماز پڑھ رہا ہوں۔ کیا گزشتہ برسوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا مجھ پر لازم ہے؟ اگر لازم ہے تو اتنی زیادہ نمازوں کی قضا کا عملی طریقہ کیا ہوگا؟ اور اگر لازم نہیں تو کیا صرف توبہ ہی کافی ہے؟

الجواب
مختصر جواب

نماز دین کا ستون ہے اور اس کا جان بوجھ کر چھوڑنا اہلِ علم کے نزدیک کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان عہد نماز ہے، جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا“ (جامع ترمذی: ۲۶۲۱؛ حسن صحیح عند الترمذی)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ ترکِ نماز کی سنگینی — پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے:

نماز دین کا ستون ہے اور اس کا جان بوجھ کر چھوڑنا اہلِ علم کے نزدیک کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان عہد نماز ہے، جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا“ (جامع ترمذی: ۲۶۲۱؛ حسن صحیح عند الترمذی)۔ اور فرمایا: ”بندے اور شرک و کفر کے درمیان (فرق) نماز کا چھوڑنا ہے“ (صحیح مسلم: ۶۶۶)۔ اسی بنا پر اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت نے جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کو اسلام سے خارج تک قرار دیا ہے۔ پس یہ مسئلہ ہلکا نہیں؛ سچی توبہ ہی اس کا دروازہ ہے: گزشتہ پر ندامت، نماز کا فوری آغاز، آئندہ نہ چھوڑنے کا پختہ عزم، اور استغفار و نوافل کی کثرت۔

۲۔ جو نماز نیند یا بھول سے چھوٹی — اس کی قضا بالاتفاق واجب ہے:

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو نماز سو جانے یا بھول جانے سے رہ گئی، اس کی قضا اسی وقت لازم ہے جب یاد آئے یا آنکھ کھلے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے وہ اسے اس وقت پڑھے جب اسے یاد آئے؛ اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں“ (صحیح البخاری: ۵۹۷؛ صحیح مسلم: ۶۸۴)۔ لہٰذا ہر موجودہ دور میں اگر کوئی نماز نیند یا بھول سے رہ جائے تو اسے فوراً پڑھنا واجب ہے، اگلے دن اسی وقت تک مؤخر کرنا درست نہیں۔

۳۔ جان بوجھ کر برسوں چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا — اہلِ علم کے دو قول:

- جمہور (چاروں ائمہ) کا قول: قضا واجب ہے، خواہ تعداد کتنی ہی زیادہ ہو؛ نماز اللہ کا قرض ہے اور توبہ کے ساتھ قرض ادا کرنا ہوگا۔ ان کے نزدیک طریقہ یہ ہے کہ صرف فرض (اور حنفیہ کے نزدیک وتر بھی) ترتیب سے قضا کیے جائیں — مثلاً ہر وقتی نماز کے ساتھ اسی وقت کی ایک قضا، یا فراغت کے اوقات میں جتنی ممکن ہوں۔ - شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن حزم اور ایک جماعت کا قول: جس نماز کو جان بوجھ کر اس کے وقت سے نکال دیا گیا، اب اس کی قضا سے وہ نماز ادا نہیں ہوتی؛ ایسے شخص پر قضا لازم نہیں، بلکہ اس پر سچی توبہ، استغفار کی کثرت اور نوافل و نیکیوں کی زیادتی لازم ہے۔ دلیل یہ ہے کہ قضا کا حکم نص میں نیند و بھول کے ساتھ آیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے“ (صحیح مسلم: ۱۲۱) — صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام کی طرف لوٹنے والوں کو گزشتہ نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اسی قول کو راجح قرار دیا، اور اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ میں بھی تائب کے لیے یہی بیان ہوا ہے کہ جب وہ توبہ کر کے نماز کا پابند ہو جائے تو گزشتہ نمازیں اس سے ساقط ہیں۔

۴۔ راجح قول اور سائل کے لیے عملی رہنمائی:

اس دار الافتاء کے نزدیک راجح یہی دوسرا قول ہے: برسوں کی جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نمازوں کی گنتی کر کے قضا کرنا لازم نہیں — نہ اس کا کوئی حساب کتاب سائل کو سونپا جاتا ہے۔ لازم یہ ہے کہ: (۱) سچی توبہ دل سے ہو اور نماز اسی دن سے بلا ناغہ شروع ہو؛ (۲) استغفار اور نوافل کی کثرت ہو، خصوصاً وہ نوافل جو فرائض کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں اور تہجد، کیونکہ یہی اس کمی کی تلافی کا ثابت طریقہ ہے؛ (۳) آئندہ کبھی نماز ترک نہ ہو — توبہ کے بعد دوبارہ چھوڑنا پہلے سے بڑا خطرہ ہے۔ البتہ جو شخص جمہور کے قول پر عمل کر کے قضا کرنا چاہے تو اسے روکا نہیں جائے گا، یہ اس کی احتیاط ہے؛ اور جو نمازیں اس دوران نیند یا بھول سے رہ گئیں ہوں ان کی قضا ہر قول پر لازم ہے۔ یہی تفصیل گزشتہ روزوں کے بارے میں بھی ہے۔

مقاصدی تنبیہ: قضا کے حساب میں الجھا کر توبہ کو مشکل بنا دینا شریعت کا مقصد نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ بندہ آج سے اللہ کے عہد (نماز) میں پکا ہو جائے اور باقی زندگی اسی پر قائم رہے۔ ماضی کا علاج توبہ و ندامت ہے، مستقبل کی حفاظت پابندی ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔