مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآنِ مجید پڑھنا کیسا ہے — اس کا ثواب میت کو پہنچتا بھی ہے یا نہیں؟ ہمارے ہاں وفات کے تیسرے دن سوئم اور چالیسویں دن چہلم پر قرآن خوانی کی محفل اور کھانے کی دعوت ہوتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور وہ کون سے اعمال ہیں جن سے میت کو واقعۃً فائدہ پہنچانا ثابت ہے؟
۱۔ پہلے وہ اعمال، جو نص سے ثابت ہیں اور جن کا فائدہ میت کو یقیناً پہنچتا ہے: نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہِ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے“ (صحیح مسلم: ۱۶۳۱)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ پہلے وہ اعمال، جو نص سے ثابت ہیں اور جن کا فائدہ میت کو یقیناً پہنچتا ہے:
نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہِ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے“ (صحیح مسلم: ۱۶۳۱)۔ ثابت شدہ صورتیں یہ ہیں: - صدقہ: ایک شخص نے عرض کیا: میری والدہ اچانک فوت ہو گئیں؛ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں فائدہ ہوگا؟ فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے صدقہ کرو“ (صحیح البخاری: ۲۷۶۰)۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بھی ان کی والدہ کی طرف سے صدقے کی اجازت ملی اور ان کا باغ بطورِ صدقہ قبول ہوا (صحیح البخاری: ۲۷۶۲)۔ - حج و عمرہ بدل: جُہَینہ کی عورت کو اپنی والدہ کی طرف سے حج کا حکم ملا اور فرمایا: ”اللہ کا قرض ادائیگی کا سب سے زیادہ حقدار ہے“ (صحیح البخاری: ۱۸۵۲)۔ - میت کے ذمے رہ جانے والے روزے: ”جو مر جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں، اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے“ (صحیح البخاری: ۱۹۵۲؛ صحیح مسلم: ۱۱۴۷)۔ - دعا و استغفار اور میت کے قرض کی ادائیگی — ان پر اہلِ علم کا اتفاق ہے۔
۲۔ قرآن پڑھ کر ثواب بخشنے کا مسئلہ:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾ (سورۃ النجم: ۳۹)۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر (۴/۲۵۸) میں نقل کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی سے استدلال کیا کہ تلاوت کا ثواب نہیں پہنچتا، البتہ دعا و صدقے کا پہنچنا اجماعی ہے۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے نزدیک بھی دو قولوں میں اصح یہی ہے کہ ثواب نہیں پہنچتا — اس کی کوئی دلیل نہیں، اور نبی ﷺ نے اپنی حیات میں وفات پانے والی صاحبزادیوں کے لیے نہ یہ عمل خود کیا نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا (IslamQA فتویٰ نمبر ۲۰۹۹۶)۔ اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ (فتاویٰ اللجنہ: ۹/۴۳–۴۴) میں بھی صراحت ہے کہ میت کے لیے قرآن پڑھنا جائز نہیں، ثواب نہیں پہنچتا، بلکہ یہ بدعت ہے۔ یہی اس دار الافتاء کا راجح موقف ہے۔ البتہ احناف و حنابلہ کی ایک بڑی تعداد — جن میں امام کاسانی (بدائع الصنائع: ۲/۲۱۲) اور امام ابن القیم رحمہ اللہ (کتاب الروح) شامل ہیں — ثواب بخشنے کو جائز سمجھتی ہے؛ مگر اس اختلاف کے باوجود آج کی رسمی محفلوں کی کسی قول کے ہاں بھی کوئی اصل نہیں۔
۳۔ سوئم، چہلم اور قرآن خوانی کی دعوتیں:
نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور سے نہ تیسرے یا چالیسویں دن کی کوئی محفل ثابت ہے، نہ تاریخ مقرر کر کے ایصالِ ثواب کی دعوت۔ اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ (فتاویٰ اللجنہ: ۹/۱۴۹) میں صراحت ہے کہ چالیسویں دن کی یاد کی کوئی اصل نہیں؛ صدقہ کرنا ہو تو دن مقرر کیے بغیر کیا جائے، اور نقد رقم فقیروں کو دینا بہتر ہے۔ اہلِ میت کا لوگوں کے لیے کھانا تیار کر کے بلانا بھی سنت کے خلاف ہے: حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم دفن کے بعد میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو نوحے (ممنوع سوگ) میں شمار کرتے تھے“ (مسند احمد: ۶۹۰۵؛ سنن ابن ماجہ)۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اہلِ میت کے گھر جمع ہو کر کھانے پینے و قرآن خوانی کی محفلوں — تین دن کی ہوں یا کسی اور مدت کی — کو بدعت قرار دیا ہے (فتاویٰ ابن باز: ۹/۳۲۵)؛ دور سے آئے مہمانوں کی ضیافت اس سے مستثنیٰ ہے۔ سنت یہ ہے کہ پڑوسی و رشتہ دار اہلِ میت کے لیے کھانا بھیجیں، نہ یہ کہ غم زدہ گھرانہ دعوت کا بوجھ اٹھائے۔
۴۔ عملی رہنمائی — میت کو فائدہ کیسے پہنچائیں:
(۱) ہر نماز و تہجد میں والدین کے لیے دعا و استغفار؛ (۲) ان کی طرف سے صدقہ — خاص طور پر صدقہِ جاریہ، جیسے مسجد و کنویں میں حصہ، قرآن و علم کی اشاعت؛ (۳) ان کے ذمے قرض یا رہ جانے والے فرض روزوں کی ادائیگی؛ (۴) استطاعت ہو تو ان کی طرف سے حج یا عمرہ۔ یہ اعمال دن مقرر کیے بغیر اور دعوت و نمائش کے بغیر سارا سال کیے جا سکتے ہیں — یہی محبت نص سے ثابت بھی ہے اور نفع بخش بھی۔
مقاصدی تنبیہ: ایصالِ ثواب کا مقصد میت کی مغفرت و بلندیِ درجات ہے، نہ کہ رسم کی ادائیگی۔ جو عمل کتاب و سنت سے ثابت ہو وہی اس مقصد کو پورا کرتا ہے؛ گھڑی ہوئی صورتیں زندوں پر بوجھ بھی ہیں اور اس مقصد سے خالی بھی۔