بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 101
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

میرے چچا وفات پا گئے ہیں۔ سنا ہے کہ دفن کے بعد قبر کے پاس اتنی دیر ٹھہرنا چاہیے جتنی دیر میں اونٹ ذبح ہو اور اس کا گوشت تقسیم ہو جائے، اور اس وقت میت کے لیے دعائے ثبات کی جاتی ہے — لیکن یہ تو اولاد کے لیے ہے؛ قبر کے پاس اتنی دیر اولاد ہی ٹھہرتی اور ٹھہر سکتی ہے۔ تو ہم دوسرے رشتہ دار، مثلاً بھتیجی، اس وقت اپنے مرحوم کے لیے کیا کریں اور کیسے دعا کریں؟ اور کیا خواتین اسی حدیث کی روشنی میں قبر پر جا کر دعا کر سکتی ہیں؟
(سائلہ: مرحوم کی بھتیجی)

الجواب
مختصر جواب

۱۔ سب سے پہلے تصحیحِ مفہوم: یہ عمل اولاد کے ساتھ خاص نہیں۔ جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ کیا، وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وصیت ہے کہ انہوں نے فرمایا:۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ سب سے پہلے تصحیحِ مفہوم: یہ عمل اولاد کے ساتھ خاص نہیں۔

جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ کیا، وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وصیت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

«فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا، حَتَّىٰ أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي»

’’میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی جائے اور نہ آگ۔ جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر مٹی اچھی طرح ڈالنا، پھر میری قبر کے گرد اتنی دیر ٹھہرنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے، تاکہ مجھے تم سے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے (فرشتوں) کو کیا جواب دیتا ہوں‘‘ (صحیح مسلم: ۱۲۱)۔

غور فرمائیے: انہوں نے یہ وصیت صرف اپنے بیٹے کو نہیں کی تھی — ان کے پاس ان کا بیٹا بھی موجود تھا اور دیگر حاضرین بھی، اور خطاب سب سے ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ کا اپنا عمل اور حکم اس سے بھی واضح ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو قبر کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے:

«اِسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ»

’’اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی مانگو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جا رہا ہے‘‘ (سنن ابی داؤد: ۳۲۲۱، صحیح)۔

یہاں لفظ «لِأَخِيكُمْ» (اپنے بھائی کے لیے) آیا ہے — «اپنے والد کے لیے» یا «اپنی اولاد کے لیے» نہیں۔ مطلب یہ کہ دفن کے بعد ٹھہرنا اور دعائے مغفرت و ثبات کرنا ہر اس مسلمان کا عمل ہے جو دفن میں حاضر ہو، اور میت کو ہر مسلمان کی دعا سے فائدہ پہنچتا ہے، خواہ وہ اولاد ہو، بھائی بہن ہو، بھتیجا بھتیجی ہو یا کوئی بھی اہلِ ایمان۔ اللہ تعالیٰ نے تو اہلِ ایمان کو اپنے سے پہلے گزرے ہوئے تمام مسلمان بھائیوں کے لیے دعا سکھائی ہے:

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾

’’اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے‘‘ (سورۂ الحشر: ۱۰)۔

البتہ یہ بھی حق ہے کہ اولاد کی دعا کی فضیلت سب سے بڑی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَنَّىٰ هَٰذَا؟ فَيُقَالُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ»

’’آدمی کا درجہ جنت میں بلند کر دیا جاتا ہے، وہ کہتا ہے: یہ میرے لیے کہاں سے آیا؟ کہا جاتا ہے: تیرے بچے کے تیرے لیے استغفار کرنے کی وجہ سے‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۳۶۶۰، حسن)۔ تو اصل بات یہ ہے: اولاد کی دعا افضل ترین ہے، مگر یہ دروازہ صرف اولاد کے لیے نہیں — خصوصیت اور چیز ہے، فضیلت اور چیز۔

۲۔ آپ بطور بھتیجی اس وقت کیا کریں؟

دو صورتیں ہیں:

(الف) مرد رشتہ دار جو دفن میں شریک ہوں، وہ دفن کے بعد قبر کے پاس ٹھہریں اور ذیل کی دعائیں کریں — یہ میت کے لیے اس نازک گھڑی کی سب سے بڑی خدمت ہے۔

(ب) آپ اور دیگر خواتین و رشتہ دار جو قبرستان میں حاضر نہیں، وہ اپنے گھر سے عین اسی وقت — جب تدفین ہو رہی ہو — دل جمعی کے ساتھ یہی دعائے مغفرت و ثبات کریں۔ دعا کے لیے قبر پر حاضر ہونا شرط نہیں؛ اللہ تعالیٰ ہر جگہ سے سنتا ہے اور آپ کی دعا آپ کے چچا کو اسی طرح پہنچے گی جیسے قبر پر کھڑے شخص کی پہنچتی ہے۔ پھر یہ سلسلہ اسی دن ختم نہ کریں: جب یاد آئے دعا کرتی رہیں، اور ہو سکے تو مرحوم کی طرف سے صدقہ بھی کریں — یہ میت کے حق میں جاری نفع ہے۔

۳۔ دعائے ثبات (مصحف خط میں، اعراب کے ساتھ):

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾

’’اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات کے ساتھ ثابت قدم رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی‘‘ (سورۂ ابراہیم: ۲۷) — اہلِ علم نے آخرت کے اس ثبات میں قبر کے سوال کے وقت کی ثابت قدمی کو داخل کیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے خود دفن کے بعد میت کے لیے ثبات مانگنے کا حکم فرمایا ہے (ابی داؤد: ۳۲۲۱)۔ لہٰذا اپنے چچا کے لیے یوں دعا کیجیے:

اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ

اور اگر میت عورت ہو تو:

اللَّهُمَّ ثَبِّتْهَا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ

اس کے ساتھ یہ دعا بھی ملائیے:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ

یہ دعا بھی کسی رشتے کے ساتھ خاص نہیں — ہر مسلمان اسے ہر مرحوم کے لیے کر سکتا ہے، اور نمازِ جنازہ میں پوری امت یہی دعائیں ہر میت کے لیے کرتی ہے۔

۴۔ مدت کی مقدار:

حدیث میں اونٹ ذبح ہونے اور گوشت تقسیم ہونے کی مقدار وقتی پیمانہ متعین کرنے کے لیے نہیں، اس بات کی تعبیر ہے کہ دفن کے فوراً بعد کا وہ مرحلہ — جس میں میت سے سوال ہوتا ہے — ٹھہر کر دعا و استغفار میں گزارا جائے۔ لہٰذا حاضرین جتنی دیر ٹھہر سکیں ٹھہریں؛ جلدی پلٹ جانا اس سنت کی روح کے خلاف ہے۔

۵۔ خواتین کا قبر پر جا کر دعا کرنا — اور اس حدیث سے غلط استدلال کی وضاحت:

بعض خواتین اسی روایت کو دلیل بنا کر قبرستان جاتی ہیں کہ ’’حدیث میں قبر کے پاس ٹھہرنے کا حکم ہے‘‘ — یہ استدلال درست نہیں، تین وجوہ سے:

(الف) اس روایت کا خطاب ان لوگوں سے ہے جو دفن کر رہے ہیں؛ اور تدفین مردوں کا اجتماع ہے۔ بلکہ غور کیجیے: اسی روایت کے آغاز میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: «فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ» — ’’میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی (عورت) نہ جائے‘‘۔ جس روایت سے عورتوں کے جانے کی دلیل لی جاتی ہے، اسی میں عورتوں کو جنازے کے ساتھ لے جانے کی ممانعت موجود ہے۔

(ب) حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

«نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»

’’ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے روکا گیا تھا، اگرچہ ہم پر اس میں سختی نہیں کی گئی‘‘ (صحیح بخاری: ۱۲۷۸؛ صحیح مسلم: ۹۳۸)۔

(ج) قبروں کی زیارت کی کثرت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی حدیث بھی آئی ہے (جامع ترمذی: ۱۰۵۶، حسن صحیح)۔

ان دلائل کی بنا پر اہلِ علم کا راجح موقف یہی ہے کہ خواتین دفن کے لیے قبرستان نہ جائیں — خواہ مرحوم ان کے والد ہوں، چچا ہوں یا کوئی بھی عزیز۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی دعا محروم رہی: ان کے لیے مشروع اور افضل طریقہ یہی ہے کہ گھر ہی سے اسی وقت دعائے مغفرت و ثبات کریں۔ نمازِ جنازہ میں خواتین شریک ہو سکتی ہیں؛ ممانعت صرف قبرستان جانے اور دفن کے اجتماع میں حاضر ہونے کی ہے۔

خلاصہ: دفن کے بعد قبر کے پاس ٹھہرنا اور دعائے ثبات کرنا اولاد کے ساتھ خاص نہیں — یہ ہر حاضر مسلمان کا مسنون عمل ہے؛ اولاد کی دعا سب سے افضل ضرور ہے مگر باقی رشتہ دار اس سے محروم نہیں۔ بھتیجی ہونے کے ناطے آپ کے لیے بہترین عمل یہ ہے کہ تدفین کے وقت گھر سے ’’اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ‘‘ اور دعائے مغفرت دل سے کریں، اور بعد میں بھی دعا و صدقہ جاری رکھیں۔ قبر پر جا کر دعا کرنا خواتین کے لیے اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا؛ ان کی گھر کی دعا ہی شرعاً درست بھی ہے اور اجر میں مکمل بھی۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔