بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 097
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

عید میلاد النبی ﷺ منانا، محفلِ میلاد کا انعقاد اور اس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ جلوس، چراغاں اور میلاد کی دعوتوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

نبی کریم ﷺ سے محبت ایمان کا جز ہے، اس میں کوئی شک نہیں؛ لیکن اس محبت کی شرعی صورت آپ ﷺ کی اتباع ہے، خود ساختہ رسم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ (سورۃ آل عمران: ۳۱)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا اور اس کی اصل صورت:

نبی کریم ﷺ سے محبت ایمان کا جز ہے، اس میں کوئی شک نہیں؛ لیکن اس محبت کی شرعی صورت آپ ﷺ کی اتباع ہے، خود ساختہ رسم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ (سورۃ آل عمران: ۳۱)۔ یعنی اللہ کی محبت کا دعویٰ ہو تو ثبوت نبی ﷺ کی پیروی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے، اور ان کی محبت کا اظہار آپ کے حکم کی تعمیل، آپ کی سنت کی حفاظت اور اس کی نشر و اشاعت میں تھا۔

۲۔ میلاد کا شرعی جائزہ — یہ عمل قرونِ اولیٰ میں موجود نہیں تھا:

حقیقت یہ ہے کہ نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا یومِ ولادت منایا، نہ خلفائے راشدین اور صحابہ نے، نہ تابعین اور ائمہِ اربعہ نے، حالانکہ ولادت کی تاریخ ان کے علم میں تھی اور محبت میں وہ ہم سے کہیں بڑھ کر تھے۔ یہ رسم صدیوں بعد شروع ہوئی: مصر میں فاطمی دور (چوتھی صدی ہجری) میں اس کا آغاز ہوا اور ساتویں صدی ہجری میں اربل کے حاکم نے اسے بڑے پیمانے پر رائج کیا، جیسا کہ اہلِ تاریخ نے لکھا ہے۔ عبادت و تقرب کے طور پر ایجاد کیا گیا عمل شریعت میں بدعت کہلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے“ (صحیح بخاری: ۲۶۹۷؛ صحیح مسلم: ۱۷۱۸)۔ اور عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی مشہور وصیت میں فرمایا: ”میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو... اور نئی ایجاد کردہ باتوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی ایجاد بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے“ (سنن ابی داؤد: ۴۶۰۷؛ جامع ترمذی: ۲۶۷۶؛ صحیح عند البانی رحمہ اللہ)۔ آپ ﷺ ہر خطبے میں فرمایا کرتے تھے: ”بدترین امور نئی ایجاد کردہ باتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے“ (صحیح مسلم: ۸۶۷)۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کا اعلان بھی فرما دیا: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ (سورۃ المائدہ: ۳)، تو جو عبادت اس تکمیل کے بعد ایجاد ہو وہ اس کامل دین کا حصہ نہیں ہو سکتی۔

۳۔ راجح قول اور علماء کا موقف:

اس بنا پر راجح قول یہی ہے کہ یومِ ولادت کو مذہبی تہوار (عید) کے طور پر مقرر کر کے منانا، اس دن کو عبادتوں اور محفلوں کے لیے خاص کرنا بدعت ہے اور جائز نہیں۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اپنے معروف رسالے ”التحذیر من البدع“ میں اسے صراحتاً بدعت قرار دیا ہے، اور اللجنۃ الدائمہ کا فتویٰ بھی یہی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ”اقتضاء الصراط المستقیم“ میں اس مسئلے کی نفیس تفصیل لکھی ہے: یہ دن عید بنانا ایجاد ہے جس کی کوئی اصل نہیں، البتہ جو شخص محبت و تعظیم کی نیت سے اور جہالت کی بنا پر یہ کرتا ہے، اسے اس کی محبت و اچھی نیت کا ثواب مل سکتا ہے، بدعت کا نہیں۔ اس لیے منانے والوں سے نفرت، بدکلامی یا ان کی تکفیر ہرگز درست نہیں؛ اصلاح نرمی، دلیل اور حکمت سے ہوگی۔ یہ بھی منقول ہے کہ بعض علماء (مثلاً امام سیوطی رحمہ اللہ) نے چند شرائط کے ساتھ اسے بدعتِ حسنہ کہا ہے، مگر راجح موقف دلیل کی قوت کی وجہ سے وہی ہے جو اوپر بیان ہوا، کیونکہ عبادت میں اصل توقیف (نص کا ہونا) ہے۔

۴۔ محفلِ میلاد میں شرکت، جلوس، چراغاں اور دعوتیں:

جو محفل اسی ایجاد کردہ تہوار کے طور پر سجائی جائے اس میں شرکت اسی عمل میں شمولیت ہے، اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے؛ اور جب ان مجالس میں اختلاط، موسیقی اور اسراف شامل ہوں تو ممانعت مزید مؤکد ہو جاتی ہے۔ جلوس و چراغاں بھی اسی رسم کا حصہ ہیں۔ البتہ اہلِ خانہ و اقرباء سے قطع تعلقی مقصود نہیں: حسنِ سلوک برقرار رکھیں اور اختلاف کو جھگڑے کا سبب نہ بنائیں۔ اس موقع کا بہتر مصرف یہ ہے کہ گھروں میں سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیم عام کی جائے اور درود و سلام کی کثرت ہو — یہ اعمال سال بھر مشروع ہیں، کسی دن کی تخصیص کے بغیر۔

مقاصدی تنبیہ: اس مسئلے کا حاصل یہ ہے کہ مقصود تعظیم و محبتِ رسول ﷺ ہے، اور شریعت نے اس مقصد کا راستہ اتباعِ سنت مقرر کیا ہے۔ جو دن شریعت نے عید نہیں بنایا اسے عید بنانا مقصد کی بجائے صورت کو اصل بنا دیتا ہے؛ اصل محبت یہی ہے کہ نبی ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو زندگی کا دستور بنایا جائے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔