بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 102
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 6 نومبر 2026 — ہجری: 25 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

انڈونیشیا سے ایک سائل (عبداللہ) نے آڈیو پیغام میں تین مسائل دریافت کیے ہیں:

(۱) پہلی جماعت ختم ہونے کے فوراً بعد رہ جانے والے لوگوں کا اپنی دوسری جماعت کھڑی کرنا۔

(۲) ایک ہی مسجد میں بنیادی جماعت کے بعد دوسری یا تیسری جماعت کروانا۔

(۳) تنہا نماز پڑھنے والے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی اقتدا کرنا اور اسے امام بنا لینا۔

ان تینوں امور کا شرعی حکم قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔

الجواب
مختصر جواب

(۱) پہلی جماعت ختم ہونے کے فوراً بعد رہ جانے والے لوگوں کا اپنی دوسری جماعت کھڑی کرنا۔ (۲) ایک ہی مسجد میں بنیادی جماعت کے بعد دوسری یا تیسری جماعت کروانا۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عبداللہ بیٹا! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور دین و دنیا میں کامیابی عطا فرمائے۔

آپ نے آڈیو میں تین اہم مسائل کا ذکر کیا ہے:

(۱) پہلی جماعت ختم ہونے کے فوراً بعد رہ جانے والے لوگوں کا اپنی دوسری جماعت کھڑی کرنا۔
(۲) ایک ہی مسجد میں بنیادی جماعت کے بعد دوسری یا تیسری جماعت کروانا۔
(۳) تنہا نماز پڑھنے والے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی اقتدا کرنا اور اسے امام بنا لینا۔

قرآن، صحیح احادیث اور فقہائے محدثین کے راجح موقف کی روشنی میں ان تینوں امور کا تفصیلی اور تسلی بخش شرعی حکم درج ذیل ہے:

۱۔ ایک ہی مسجد میں جماعت کی تکرار (دوسری یا تیسری جماعت) — اصل شرعی منہج

سب سے پہلے اصل اصول سمجھ لیجیے: شریعت کا مقصود یہ ہے کہ مسجد میں نماز ایک ہی متحد جماعت کی صورت میں، مسجد کے مقررہ امام کے پیچھے ادا ہو؛ نمازِ جماعت کو «جماعت» اسی اجتماع و اتحاد کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اسی لیے جس مسجد کا مقرر امام اور باقاعدہ جماعت ہو، وہاں جان بوجھ کر، عادت بنا کر، یا پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت دوسری یا تیسری جماعت قائم کرنا جائز نہیں۔ یہ نہ سلفِ صالحین کا طریقہ تھا، نہ اس کی کوئی دلیل ہے؛ اس سے اصل جماعت کمزور ہوتی ہے، مسلمانوں میں تفرقے اور نمایش کا دروازہ کھلتا ہے، اور لوگ بنیادی جماعت سے سستی کرنے لگتے ہیں۔ یہی موقف اللجنۃ الدائمہ للإفتاء، شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہم اللہ کا ہے: شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے پہلے سے باہمی طے کر کے جماعتِ اول کے بعد آنے اور الگ جماعت بنانے کو حرام قرار دیا ہے، اور مسجد میں دو مقررہ جماعتوں (پہلی اور دوسری، باقاعدہ اوقات کے ساتھ) کے مستقل نظام کو بدعت کہا ہے؛ اللجنۃ الدائمہ نے ان لوگوں کو تنبیہ و تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے جو جان بوجھ کر تاخیر کر کے اپنی الگ جماعت بناتے ہیں؛ اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے تاکید کی ہے کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ جماعت سے جان بوجھ کر پیچھے رہے — اذان سنتے ہی اسے حاضر ہونا چاہیے۔

البتہ دوسری صورت بالکل الگ ہے: اگر کسی شخص کی جماعت کسی حقیقی وجہ سے رہ جائے — نیند، سفر، مجبوری یا محض اتفاقی تاخیر — اور رہ جانے والے چند افراد بغیر کسی پیشگی ارادے، طے شدہ اہتمام اور عادت کے اتفاقاً اکٹھے ہو جائیں، تو ان کا آپس میں باجماعت نماز پڑھنا جائز ہے؛ اللجنۃ الدائمہ (فتویٰ نمبر: 2583) کے نزدیک ان کے لیے یہی مشروع ہے کہ وہ انفرادی نماز کے بجائے مل کر جماعت سے پڑھیں، اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اسے مشروع بلکہ بعض صورتوں میں واجب تک قرار دیا ہے، کیونکہ جماعت کی فضیلت کے دلائل عام ہیں۔ یعنی: دلیل کی بنیاد پر اتفاقاً پیش آنے والی صورت میں کوئی حرج نہیں؛ ممانعت باقاعدہ عادت و نظام کی ہے — یہی اس مسئلے میں اہلِ علم کے فتاویٰ کا خلاصہ اور اصل منہج ہے۔

اس کی دلیل: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟» (رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو [جماعت نکل جانے کے بعد] اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس پر صدقہ [احسان] کرے اور اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے؟)۔ (سنن ابی داؤد: 574 — شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا؛ یہی واقعہ جامع الترمذی: 220 میں دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے، امام ترمذی نے اس حدیث کو «حسن» کہا، جبکہ امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی)

یہاں ایک نکتہ خوب سمجھ لیجیے: یہ حدیث درحقیقت اسی اتفاقی صورت پر محمول ہے — ایک شخص تنہا رہ گیا تھا اور اس کے ساتھ ایک اور شخص شامل ہوا تھا؛ اس سے مسجد میں باقاعدہ دوسری جماعت کا نظام قائم کرنا ثابت نہیں ہوتا۔ یہی تنبیہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کی ہے: ان کے نزدیک مقرر امام والی مسجد میں باقاعدہ جماعتِ ثانیہ قائم کرنا مشروع نہیں، البتہ بغیر عادت و قصد کے اتفاقاً پیش آنے والی یہ صورت — یعنی نماز پڑھ چکے شخص کا رہ جانے والے تنہا شخص کے ساتھ شامل ہو جانا — مشروع ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اسی طرح امام ترمذی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ صحابہ و تابعین کے متعدد اہلِ علم، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کے نزدیک رہ جانے والوں کا باجماعت نماز پڑھنا درست ہے؛ اور صحابہ کا عمل بھی یہی ملتا ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک مسجد میں آئے جہاں نماز پڑھی جا چکی تھی تو انہوں نے اذان و اقامت کہلوا کر باجماعت نماز پڑھائی (امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں تعلیقاً ذکر کیا ہے، اور یہ اثر موصولاً بھی ثابت ہے)، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جماعت نکل جانے پر علقمہ، مسروق اور اسود کے ساتھ جمع ہو کر نماز پڑھی (مصنف ابن ابی شیبہ — اس کی سند صحیح ہے)۔ ان سب دلائل کا حاصل یہی ہے کہ رہ جانے والے اتفاقاً جماعت پا لیں تو یہ پسندیدہ ہے، تاکہ وہ باجماعت نماز کے ۲۷ گنا اجر (صحیح بخاری: 645) سے محروم نہ رہیں؛ لیکن اسے مسجد کا باقاعدہ نظام بنا لینا دلیل سے ثابت نہیں۔

اہم شرائط و تنبیہات: (۱) تیسری جماعت کا حکم بھی یہی ہے: اتفاقاً پیش آئے تو اسی اصول پر جائز، اور جماعتوں کا باقاعدہ سلسلہ بنا لینا اسی ممانعت میں داخل ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ (۲) بنیادی جماعت کے ہوتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ متوازی (Parallel) جماعت کھڑی کرنا کسی صورت جائز نہیں؛ اللجنۃ الدائمہ (فتویٰ نمبر: 16593) کے نزدیک ایک ہی مسجد میں ایک ہی وقت میں دو جماعتیں قائم کرنا درست نہیں — مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ ایک مسجد میں ایک امام کے پیچھے ایک ہی جماعت ہوتی ہے۔ اور جو رہ جانے والے اپنی جماعت بنائیں وہ اتنی بلند آواز سے قرات یا تکبیریں نہ کہیں کہ مسجد میں دعا یا سنن پڑھنے والوں کے لیے تشویش کا باعث بنے۔ (۳) جو مساجد راستوں پر یا مسافروں کے لیے ہوں اور ان کا کوئی مقرر امام و مؤذن نہ ہو، وہاں ہر آنے والے گروہ کا باجماعت نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے، کیونکہ وہاں تفرقے کا اندیشہ ہی نہیں۔

امانتاً یہ بھی واضح رہے کہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک مقرر امام والی مسجد میں جماعت کی تکرار مکروہ ہے — ان کی دلیل یہ ہے کہ سلفِ صالحین جماعت نکل جانے پر عموماً انفرادی نماز پڑھتے تھے (امام شافعی، کتاب الأم) اور تکرار سے اصل جماعت میں کمی اور تفرقے کا اندیشہ ہے؛ اور شیخ البانی رحمہ اللہ اس باب میں اسی سختی کی طرف گئے ہیں۔ لیکن تمام اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہے کہ باقاعدہ نظام و عادت کسی کے نزدیک بھی درست نہیں، اور اگر اتفاقاً ایسی جماعت ہو گئی تو نماز بہرحال صحیح ہے (اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ نمبر: 16593 میں ہے کہ جو نماز اس طرح ہو چکی وہ صحیح ہے، اس کی تکرار لازم نہیں)؛ اس لیے دلیل کی بنیاد پر اوپر بیان کردہ تفصیل ہی اصل منہج کے موافق ہے۔

۲۔ تنہا نماز پڑھنے والے کی اقتدا کرنا (کندھے پر ہاتھ رکھنا)

اگر کوئی شخص پہلے سے اکیلا فرض نماز پڑھ رہا ہو، اور پیچھے سے آنے والا شخص اس کے برابر یا پیچھے کھڑا ہو کر (یا کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر متوجہ کرے) اور اس کی اقتدا میں نماز شروع کر دے، تو یہ عمل بھی سنتِ صحیحہ سے مکمل ثابت اور جائز ہے۔ درحقیقت اوپر گزری ہوئی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کا اصل مورد یہی صورت ہے — اور اللجنۃ الدائمہ نے بھی اسی حدیث کی روشنی میں اسے مشروع قرار دیا ہے کہ نماز پڑھ چکا شخص رہ جانے والے کے ساتھ شامل ہو کر اس پر «صدقہ» کرے (فتویٰ نمبر: 2583)۔

صحیح بخاری کی دلیل: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: "میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا۔ نبی کریم ﷺ رات کو اٹھے اور اکیلے نماز (تہجد) شروع فرمائی۔ میں اٹھا اور وضو کر کے آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا۔" (صحیح بخاری: 117؛ یہی واقعہ بخاری: 667 و 728 اور صحیح مسلم: 763 میں بھی مذکور ہے)

فقہی اصول (نیت کی تبدیلی): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک شخص تنہا نماز کی نیت باندھ چکا تھا، لیکن بعد میں آنے والے کے شامل ہونے سے اس کی حیثیت "امام" کی بن گئی اور اس کی نماز اور مقتدی کی نماز دونوں درست رہیں۔ یہی قول راجح ہے جسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی منقول ہے؛ اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حکم فرض اور نفل دونوں نمازوں میں یکساں ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا یہ واقعہ نفل (تہجد) کا تھا جبکہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں معاملہ فرض نماز کا تھا۔

چند شرائط و آداب: (الف) شامل ہونے والا تنہا ہو تو امام کے دائیں جانب کھڑا ہو — جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے دائیں جانب کھڑا کیا تھا — اور اگر شامل ہونے والے دو یا زائد ہوں تو وہ امام کے پیچھے صف بنا لیں (صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ)۔ (ب) اس اقتدا کے لیے از سرِ نو اذان و اقامت کی ضرورت نہیں؛ شامل ہونے والا تکبیر کہہ کر نماز میں داخل ہو جائے۔ (ج) تنہا پڑھنے والا بھی وہی فرض نماز پڑھ رہا ہو تو صورت بالکل واضح ہے؛ اور اگر وہ نفل پڑھ رہا ہو اور شامل ہونے والا اپنا فرض پڑھنا چاہتا ہو تو بھی راجح قول کے مطابق یہ اقتدا درست ہے، کیونکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پیچھے عشاء پڑھ کر واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے (صحیح بخاری: 700)۔

لہٰذا، اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور دوسرا آ کر اس کے پیچھے نیت باندھ لے اور وہ نماز آگے بطورِ امام پڑھا دے، تو شریعت میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، دونوں کو جماعت کا ثواب ملے گا۔

۳۔ انڈونیشیا میں آپ کے لیے عملی رہنمائی

انڈونیشیا میں جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اسے اسی تفصیل کی روشنی میں پرکھیے: اگر وہاں لوگ جماعت نکل جانے پر اتفاقاً اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں، یا کوئی پڑھ چکا شخص رہ جانے والے کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، تو یہ احادیثِ صحیحہ اور اہلِ علم کے فتاویٰ کے عین مطابق ہے۔ لیکن اگر کہیں یہ صورت باقاعدہ مقررہ دوسری یا تیسری جماعت کی شکل اختیار کر چکی ہو — پہلے سے طے شدہ اہتمام اور عادت کے ساتھ — تو وہ اس جواز میں داخل نہیں؛ وہاں آپ کا اپنا طرزِ عمل یہ ہو کہ مسجد کی بنیادی جماعت ہی کو لازم پکڑیں، اور اگر کوئی آپ سے مسئلہ پوچھے تو نرمی سے یہی شرعی تفصیل بتا دیں۔

پریشان ہونے کی ضرورت نہیں: آپ کا ایسی اتفاقی جماعتوں میں شریک ہونا بالکل درست ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ جماعت کی فضیلت حاصل ہوتی ہے؛ اور جو نمازیں اس طرح پڑھی جا چکی ہیں وہ بھی صحیح ہیں، انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔

اصل کوشش: پہلی ترجیح ہمیشہ یہی ہونی چاہیے کہ مسجد کی بنیادی جماعت (تکبیرِ اولیٰ) کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔ لیکن اگر کسی عذر، تاخیر یا سفر کی وجہ سے پہلی جماعت نکل جائے، تو اکیلے پڑھنے کے بجائے وہاں دو تین افراد کے ساتھ مل کر جماعت بنا لینا یا کسی اکیلے نماز پڑھنے والے کے ساتھ مل جانا حدیث کے مطابق زیادہ افضل ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔