اگر عورت کے پاس سونا موجود ہے جو نصاب کو پہنچتا ہے جبکہ شوہر کے پاس آمدنی نہیں ہے، تو کیا عورت پہ قربانی واجب ہے کہ وہ سونا بیچ کر قربانی کرے؟ وہی شرائط
اس مسئلے میں جمہور علماء کے نزدیک اصولی موقف درج ذیل ہے: عورت کی ملکیت میں موجود سونے اور قربانی کے حوالے سے شرعی حکم درج ذیل ہے:۔
وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ
اس مسئلے میں جمہور علماء کے نزدیک اصولی موقف درج ذیل ہے:
The obligation of sacrifice (Udhiyah) is linked to individual ownership and financial capability, not to the combined household income.
Individual Liability: In Islam, a woman has an independent financial personality. If she owns gold that reaches the Nisab (threshold) and it is surplus to her basic needs, she is considered "wealthy" in terms of Sharia.
The Ruling on Udhiyah: There is a well-known difference of opinion among scholars; some see it as a Sunnah Mu'akkadah (emphasized Sunnah), while others (like the Hanafi school and some scholars) see it as Wajib (obligatory) for those who can afford it.
Selling Gold for Sacrifice: If a woman possesses gold that reaches the Nisab (approximately 87.48 grams) and she has no liquid cash, she is not strictly required to break or sell her jewelry to perform the sacrifice according to the majority of scholars, as the sacrifice is meant to be an act of ease. However, if she chooses to sell a small portion to perform this great sunnah, it is highly recommended and virtuous.
The Husband's Responsibility: The husband is only responsible for the sacrifice if he has the means. If he is bankrupt or has no income, the obligation falls off him. He is not required to provide for his wife's individual religious obligations (like her Zakat or Udhiyah) from his own pocket if he is unable.
قرآن و سنت کی روشنی میں جواب
عورت کی ملکیت میں موجود سونے اور قربانی کے حوالے سے شرعی حکم درج ذیل ہے:
انفرادی مالی حیثیت: اسلام میں عورت کی مالی حیثیت مرد سے الگ اور آزاد ہے۔ اگر کسی عورت کے پاس نصاب کے برابر سونا موجود ہے، تو وہ صاحبِ نصاب شمار ہوگی۔
قربانی کا حکم: علماء کے نزدیک قربانی "سنتِ مؤکدہ" ہے (اور بعض کے نزدیک واجب ہے) اس شخص کے لیے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ اگر عورت کے پاس سونا موجود ہے لیکن نقد رقم نہیں ہے، تو اس پر لازم نہیں کہ وہ اپنا سونا بیچ کر یا توڑ کر قربانی کرے۔ دین میں تنگی نہیں ہے، اور قربانی مالی وسعت سے مشروط ہے۔
افضلیت: اگرچہ سونا بیچ کر قربانی کرنا واجب نہیں، لیکن اگر عورت اللہ کی رضا کے لیے سونے کا کچھ حصہ بیچ کر یہ عظیم عبادت ادا کرتی ہے، تو یہ اس کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہے، بشرطیکہ اس سے اس کی بنیادی ضرورت متاثر نہ ہو۔
شوہر کی ذمہ داری: شوہر پر اپنی بیوی کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں ہے، خاص طور پر جب اس کے پاس آمدنی نہ ہو۔ قربانی اس پر ہوتی ہے جو صاحبِ استطاعت ہو۔ اگر شوہر غریب ہے تو اس سے قربانی ساقط ہو جاتی ہے۔
خلاصہ: اگر عورت کے پاس صرف سونا ہے اور نقد رقم بالکل نہیں ہے، تو فقہاء کے نزدیک اس پر سونا بیچ کر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، کیونکہ قربانی میسر مال اور آسانی پر مبنی عبادت ہے، تنگی اور اثاثے بیچنے پر نہیں۔