السلام علیکم ورحمة الله وبركاته..
س... ایک بہن حج پر جا رہی ہیں اور انہیں حیض آگیا ہے تو وہ احرام کیسے باندھیں گی؟
علماء اور محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ حیض کی حالت احرام کے لیے رکاوٹ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مکمل مدلل جواب درج ذیل ہے: احرام کی صحت: حیض کی حالت میں احرام باندھنا بالکل جائز اور صحیح ہے۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
This is a common and important issue regarding the rites of Hajj. The ruling for a menstruating woman is clear in the prophetic tradition.
Validity of Ihram: Menstruation does not prevent a woman from entering the state of Ihram. She can and should enter Ihram at the designated Miqat just like any other pilgrim.
The Prophetic Evidence: In the Farewell Pilgrimage, Asma bint Umays gave birth to Muhammad ibn Abi Bakr at Dhul Hulayfah. When Abu Bakr asked the Prophet ﷺ what she should do, he replied: "Perform Ghusl, pad yourself with a cloth, and enter the state of Ihram." This hadith, found in Sahih Muslim, is the primary evidence for both postpartum bleeding and menstruation.
The Ritual Bath: It is a Sunnah for a menstruating woman to take a bath (Ghusl) before entering Ihram, even though this bath does not lift the state of ritual impurity for prayer. It is for the purpose of cleanliness for the pilgrimage.
Performance of Rites: A woman in her period performs all the actions of Hajj, such as standing at Arafat, staying at Muzdalifah, and stoning the pillars.
The Restriction: The only ritual she is prohibited from performing is the Tawaf of the Kaaba. The Prophet ﷺ told Aisha: "Do everything that a pilgrim does, but do not perform Tawaf around the House until you are clean."
قرآن و سنت کی روشنی میں جواب
علماء اور محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ حیض کی حالت احرام کے لیے رکاوٹ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مکمل مدلل جواب درج ذیل ہے:
احرام کی صحت: حیض کی حالت میں احرام باندھنا بالکل جائز اور صحیح ہے۔ ایسی بہن میقات سے احرام کی نیت کرے گی اور تلبیہ پکارے گی۔
دلیلِ شرعی: حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق کی اہلیہ اسماء بنت عمیس کو ذوالحلیفہ کے مقام پر نفاس (ولادت کے بعد کا خون) شروع ہو گیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ غسل کریں، لنگوٹ باندھیں اور احرام شروع کر دیں۔ چونکہ حیض اور نفاس کے احکام اس معاملے میں یکساں ہیں، اس لیے حیض والی عورت بھی اسی طرح احرام باندھے گی۔ (صحیح مسلم)
غسلِ احرام: حیض کی حالت میں بھی احرام کے لیے غسل کرنا سنت ہے۔ یہ غسل صفائی اور احرام کی تیاری کے لیے ہے، اگرچہ اس سے نماز کی طہارت حاصل نہیں ہوتی۔
حج کے دیگر ارکان: احرام باندھنے کے بعد وہ عورت حج کے تمام مناسک ادا کرے گی، یعنی وہ عرفات جائے گی، مزدلفہ میں قیام کرے گی اور جمرات کو کنکریاں مارے گی۔
طواف کی ممانعت: حیض کی حالت میں صرف بیت اللہ کا طواف کرنا منع ہے۔ سیدہ عائشہ کو جب دورانِ حج حیض آیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ سب کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے، مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرو یہاں تک کہ تم پاک ہو جاؤ۔ (صحیح بخاری و مسلم)
خلاصہ: ایسی خاتون میقات پر غسل کر کے احرام باندھیں گی اور نیت کریں گی۔ وہ تمام اذکار اور مناسک ادا کریں گی، سوائے طواف کے۔ جب وہ پاک ہو جائیں گی، تب غسل کر کے طوافِ زیارت ادا کریں گی۔