بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 016
موضوع: اسماء و اولاد
تاریخ: 13 فروری 2026 — ہجری: 25 شعبان 1447ھ
سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.. ایک بہن کا سوال ہے کہ زمل نام رکھنا کیسا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

لڑکی کا نام 'زمل' رکھنا بالکل جائز اور درست ہے۔ اصول: نام کا معنی اچھا و پاکیزہ ہو، شرک/کفر/برائی کا پہلو نہ ہو — زمل میں کوئی ممانعت نہیں۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

لڑکی کا نام 'زمل' رکھنا بالکل جائز اور درست ہے۔ اصول: نام کا معنی اچھا و پاکیزہ ہو، شرک/کفر/برائی کا پہلو نہ ہو — زمل میں کوئی ممانعت نہیں۔

لغوی معانی (مادہ ز-م-ل): (1) لپیٹنا/ڈھانپنا — اسی مادے سے "مُزَّمِّل" بنا؛ نبی ﷺ نے فرمایا تھا "زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي" (مجھے چادر اڑھا دو) — پردہ پوشی، حیا و حفاظت کا مفہوم۔ (2) "زَمِیل": رفیق/ہم سفر/ساتھی۔ (3) سفر کا سامان/توشہ۔

مخلصانہ مشورہ: (1) پسندیدہ و بابرکت نام امہات المؤمنین، صاحبزادیوں اور صحابیات کے نام ہیں (عائشہ، فاطمہ، خدیجہ، زینب، مریم، سمیہ، اسماء وغیرہ)۔ (2) 'زمل' کا مادہ قرآن سے ثابت ہے مگر بطورِ نام معنی معروف و صریح نہیں؛ واضح خوبصورت معنی والے نام (طیبہ، صالحہ، عفیفہ، حورین) افضل ہیں۔

خلاصہ: 'زمل' رکھنا شرعاً جائز ہے؛ صحابیہ کی نسبت یا واضح معنی والا نام زیادہ باعثِ برکت ہوگا۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔