بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 023
موضوع: اسماء و اولاد
تاریخ: 27 مارچ 2026 — ہجری: 8 شوال 1447ھ
سوال

حورم نام رکھنا کیسا ہے

الجواب
مختصر جواب

جائز ہے، مگر بہت افضل یا معروف اسلامی ناموں میں شمار نہیں ہوتا۔ دو پہلو: (1) "حور" کی نسبت سے — جنت کی خوبصورت آنکھوں والی خاتون؛ عربی لغت میں "حورم" باقاعدہ لفظ نہیں مگر خوبصورتی کی نسبت سے استعمال ہوتا ہے — اس لحاظ سے جائز۔

جائز ہے، مگر بہت افضل یا معروف اسلامی ناموں میں شمار نہیں ہوتا۔ دو پہلو: (1) "حور" کی نسبت سے — جنت کی خوبصورت آنکھوں والی خاتون؛ عربی لغت میں "حورم" باقاعدہ لفظ نہیں مگر خوبصورتی کی نسبت سے استعمال ہوتا ہے — اس لحاظ سے جائز۔ (2) فارسی/ترکی "خُرّم" کی بدلی شکل — خوش و خرم، شاداب؛ عثمانی ملکہ حُرّم سلطان کا نام بھی یہی تھا — اس معنی سے بھی اچھا نام ہے۔

بہترین طریقہ: بچیوں کے نام امہات المؤمنین، صاحبزادیوں اور صحابیات کے ناموں پر (عائشہ، فاطمہ، خدیجہ، زینب، مریم، اسماء وغیرہ) — ان میں برکت و نسبت مضبوط ہے۔

خلاصہ: حورم رکھنے میں کوئی ممانعت یا گناہ نہیں؛ واضح معنی یا صحابیات کی نسبت والا نام زیادہ افضل ہوگا۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔