بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 062
موضوع: اسماء و اولاد
تاریخ: 3 نومبر 2026 — ہجری: 22 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

میرب، ملیحہ، زرنش نام رکھنا کیسا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ میرب: جائز، مگر معروف عربی/اسلامی نام نہیں — فارسی "میر" (نگران/سردار) + "آب" (پانی) = پانی کا نگران/سردار۔ برا مطلب نہیں، اس لیے درست؛ صحابیات کے ناموں کو ترجیح بہتر۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — پس منظر: اچھے بامعنی نام والدین کی ذمہ داری؛ قیامت کے دن انسان اپنے و آباء کے ناموں سے پکارے جائیں گے۔

1۔ میرب: جائز، مگر معروف عربی/اسلامی نام نہیں — فارسی "میر" (نگران/سردار) + "آب" (پانی) = پانی کا نگران/سردار۔ برا مطلب نہیں، اس لیے درست؛ صحابیات کے ناموں کو ترجیح بہتر۔

2۔ ملیحہ: بہت خوبصورت، پسندیدہ و بہترین — عربی: خوبصورت، پیاری، بارعب و پرکشش چہرے والی۔ معانی شاندار و پاکیزہ؛ بچیوں کے لیے مستحسن۔

3۔ زرنش: جائز — فارسی: سونا، سنہری پھول، قیمتی چیز۔ کوئی شرکیہ/برا پہلو نہیں؛ ممانعت نہیں۔

خلاصہ: ملیحہ افضل، پھر زرنش و میرب بھی جائز (معانی برے نہیں)؛ سب سے افضل: امہات المؤمنین و صحابیات کے نام۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔