ایک لڑکے عبداللہ کا رشتہ اس کی دادی نے ایک لڑکی زینب سے طے کیا تھا اور دونوں بچوں کی مائیں زندہ ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ زینب کی ماں گلناز نے عبداللہ کو بچپن میں پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ دودھ پلایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک مرتبہ دودھ پلانے سے عبداللہ اور زینب کا آپس میں نکاح حرام ہو جاتا ہے یا یہ رشتہ قائم رہ سکتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا تفصیلی حکم کیا ہے؟
شریعتِ اسلامیہ اور منہجِ سلف کے راجح اور مستند موقف کے مطابق، بچپن میں کسی خاتون کا صرف ایک مرتبہ دودھ پلانے سے نکاح کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا، عبداللہ اور زینب کا یہ رشتہ اپنی جگہ بالکل قائم رہ سکتا ہے اور ان کا آپس میں نکاح شرعاً بالکل جائز اور حلال ہے۔
شریعتِ اسلامیہ اور منہجِ سلف کے راجح اور مستند موقف کے مطابق، بچپن میں کسی خاتون کا صرف ایک مرتبہ دودھ پلانے سے نکاح کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا، عبداللہ اور زینب کا یہ رشتہ اپنی جگہ بالکل قائم رہ سکتا ہے اور ان کا آپس میں نکاح شرعاً بالکل جائز اور حلال ہے۔
اس حکم کی دلیل یہ ہے کہ رضاعت سے حرمت تبھی ثابت ہوتی ہے جب بچے نے دو سال کی عمر کے اندر کم از کم پانچ مرتبہ الگ الگ اوقات میں اچھی طرح پیٹ بھر کر دودھ پیا ہو۔ پانچ سے کم مرتبہ (ایک، دو یا تین مرتبہ) دودھ پینے سے رضاعی بہن بھائی کا رشتہ قائم نہیں ہوتا اور نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دورِ مبارک میں یہ شرعی اصول طے ہوا تھا کہ پانچ مرتبہ واضح طور پر الگ الگ دودھ پینے سے ہی نکاح کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اس سے کم بار دودھ پینے کو شریعت نے نکاح کی ممانعت کا سبب نہیں بنایا۔
چونکہ گلناز صاحبہ نے عبداللہ کو پوری زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ دودھ پلایا تھا، اس لیے زینب شرعی طور پر عبداللہ کی رضاعی بہن نہیں بنی۔ دادی نے جو رشتہ طے کیا تھا وہ درست و برقرار ہے، دونوں مائیں مطمئن رہیں، خاندان والوں کو پریشانی یا شک کی ضرورت نہیں — یہ شادی شرعاً پوری طرح جائز ہے۔