بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 036
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 13 جون 2026 — ہجری: 27 ذوالحجہ 1447ھ
سوال

پہلی تشہد میں درود شریف پڑھنے کی کوئی واضح دلیل بتایئے۔

الجواب
مختصر جواب

1۔ صحیح مسلم کی صریح حدیث (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا): نبی ﷺ تہجد/وتر میں آٹھ رکعت پڑھتے، آٹھویں پر بیٹھتے تو اللہ کا ذکر، حمد، دعا کرتے "وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ" (اور اپنے نبی پر درود پڑھتے)، پھر سلام پھیرے بغیر نویں کے لیے کھڑے ہو جاتے (صحیح مسلم: 746)۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ — پہلے تشہد (القعود الأول) میں التحیات کے بعد درود شریف پڑھنا واضح و مضبوط دلائل سے مسنون و ثابت ہے (امام شافعی، علامہ البانی و دیگر محققین کا موقف)۔

1۔ صحیح مسلم کی صریح حدیث (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا): نبی ﷺ تہجد/وتر میں آٹھ رکعت پڑھتے، آٹھویں پر بیٹھتے تو اللہ کا ذکر، حمد، دعا کرتے "وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ" (اور اپنے نبی پر درود پڑھتے)، پھر سلام پھیرے بغیر نویں کے لیے کھڑے ہو جاتے (صحیح مسلم: 746)۔ وجہِ استدلال: یہ قعدہ سلام والا نہیں تھا بلکہ درمیانی/پہلا تشہد تھا، اور اس میں باقاعدہ درود پڑھا گیا۔

2۔ احادیثِ درود کا عموم: آیتِ صلاة (الاحزاب) کے نزول پر صحابہ نے پوچھا: سلام (التحیات) تو ہم جان چکے، "فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فِي صَلاَتِنَا؟" تو آپ ﷺ نے بغیر تفریق درود سکھایا: "قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ..." (صحیح ابن خزیمہ: 711، دارقطنی، بیہقی)۔ قید نہیں لگائی کہ صرف آخری تشہد میں پڑھو؛ عام حکم عمومیت پر باقی رہتا ہے جب تک ممانعت کی خاص دلیل نہ آئے۔

3۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعلیم: نسائی و طبرانی نے سندِ صحیح سے نقل کیا کہ نبی ﷺ نے نماز کے درمیان (پہلے تشہد) اور آخر میں تشہد کے کلمات سکھائے، ساتھ درود و دعا کی ترغیب — تشہد کی ہیئت دونوں جگہ ایک جیسی ہے۔

4۔ ائمہ کا موقف: امام شافعی (الام): پہلے تشہد میں «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ» پڑھنا مسنون و مستحب۔ البانی (صفۃ صلاۃ النبی ﷺ): احادیثِ صحیحہ سے پہلے تشہد میں درود سنت و ثابت، کوئی ممانعت نہیں۔ جمہور (احناف و حنابلہ): فرض کے پہلے قعدے میں تخفیف کی روایت سے صرف تشہد پر اکتفا افضل کہتے ہیں، لیکن نفل و غیر مؤکدہ سنن میں پہلے قعدے میں درود کو جائز و مستحسن قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ: پہلے تشہد میں درود (کم از کم "اللہم صل علی محمد" یا مکمل درودِ ابراہیمی) صحیح مسلم کی صریح حدیث و عام احادیث سے ثابت و مسنون ہے؛ ایسا کرنے والے کی نماز درست اور وہ سنت پر عمل پیرا ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔