بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 038
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 25 جون 2026 — ہجری: 9 محرم 1448ھ
سوال

سوال (الف): یہ جو آخری بات آپ نے کی، "تاہم" سے آگے — یہ کس نے کہا؟ آپ نے یا کسی محدث نے؟ (پس منظر: سنن ابی داؤد 840 — سجدے میں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھنا)

سوال (ب): عام بندے کے سوال کا جواب کیسے دوں، کس دلیل کے ساتھ کہ حضرت انس کی حدیث کے باوجود بھی فاصلہ 80 کلومیٹر ہی ہے؟

الجواب
مختصر جواب

یہ بات محدثین و ائمہ سلف کے صریح اقوال پر مبنی ہے: دونوں طریقوں پر نماز جائز، مگر افضل و مسنون ہاتھ پہلے رکھنا ہے۔ نتیجہ: مضبوط ترین طریقہ پہلے ہاتھ؛ دوسرا طریقہ اپنانے والے کی نماز بھی صحیح — تنقید درست نہیں۔

جواب (الف)

یہ بات محدثین و ائمہ سلف کے صریح اقوال پر مبنی ہے: دونوں طریقوں پر نماز جائز، مگر افضل و مسنون ہاتھ پہلے رکھنا ہے۔

نتیجہ: مضبوط ترین طریقہ پہلے ہاتھ؛ دوسرا طریقہ اپنانے والے کی نماز بھی صحیح — تنقید درست نہیں۔

جواب (ب)

1۔ سفر کی کل مسافت: منزل شہر کی حدود سے کم از کم 77 تا 80 کلومیٹر یا زیادہ ہو تو قصر کر سکتے ہیں — دلیل: ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہم چار بُرُد (تقریباً 80 کلومیٹر) پر قصر کا فتویٰ دیا کرتے تھے؛ جمہور صحابہ و تابعین کا یہی عمل۔

2۔ قصر کی شروعات: 80 کلومیٹر والے سفر پر روانہ ہو کر شہر کی آبادی کی حدود پار کرتے ہی پہلی نماز قصر پڑھ سکتے ہیں — 80 کلومیٹر مکمل کرنے کا انتظار نہیں۔ حدیثِ انس (صحیح مسلم: 691) کا مقصد یہی ہے: نبی ﷺ لمبے سفر پر نکلتے تو شہر سے نکلتے ہی (تقریباً 3 میل یا 3 فرسخ پر) وقت آنے پر قصر پڑھتے — یعنی قصر شہر سے نکلتے ہی شروع ہوتا ہے، 80 کلومیٹر کے بعد نہیں۔

مثال: دوسرے دور دراز شہر (80+ کلومیٹر) جانے والا اپنے شہر کی حدود سے نکلتے ہی راستے کی نماز دو رکعت پڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔