جناب سفر کی نماز کتنے فاصلے کے بعد ہوتی ہے؟
1۔ کلومیٹر میں اندازہ: جمہور صحابہ و محدثین کے آثار — ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہم 4 بُرُد (تقریباً 77 تا 80 کلومیٹر) پر قصر کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔
1۔ کلومیٹر میں اندازہ: جمہور صحابہ و محدثین کے آثار — ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہم 4 بُرُد (تقریباً 77 تا 80 کلومیٹر) پر قصر کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ معاصرین کا فتویٰ: احتیاطاً سفر اپنے شہر کی آبادی سے باہر تقریباً 77 تا 80 کلومیٹر یا زیادہ ہو تو قصر جائز و مسنون۔
2۔ راجح تحقیقی موقف (عرف): ابن تیمیہ و ابن عثیمین رحمہما اللہ کے نزدیک قرآن و سنت میں سفر کی متعین حد مقرر نہیں — دارومدار عرفِ عام پر ہے: ہر وہ مسافت جسے معاشرے میں "سفر" سمجھا جائے اور انسان اس کی باقاعدہ تیاری کرے (زادِ راہ، سواری)، اس پر سفر کے احکام لاگو۔ دلیل: انس بن مالک رضی اللہ عنہ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ» (صحیح مسلم: 691)۔
3۔ قصر کا مقام: اپنے گھر/شہر کے اندر قصر جائز نہیں؛ شہر کی حدود و آخری آبادی سے باہر نکلتے ہی شروع ہوتا ہے۔
خلاصہ: سفر تقریباً 77–80 کلومیٹر یا زائد ہو (یا عرف میں باقاعدہ سفر سمجھا جائے) تو شہر کی حدود سے باہر نکلتے ہی قصر پڑھ سکتے ہیں۔