الیاس گھمن صاحب کا کہنا ہے کہ جو بندہ کسی عورت کو پیسے دے کر زنا کرتا ہے اس پہ حد نہیں، جانوروں سے کرنے والے پہ حد نہیں — قرآن و حدیث اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں گناہ ہے لیکن حد نہیں۔
پیشگی اصول: ہر حرام کام پر "حد" (مقررہ سزا) نہیں ہوتی؛ بعض پر حد، بعض پر "تعزیر" (قاضی کی صوابدیدی سزا)۔ حد نہ لگنا عمل کے جائز ہونے کی دلیل نہیں — وہ حرام و گناہ رہتا ہے۔
پیشگی اصول: ہر حرام کام پر "حد" (مقررہ سزا) نہیں ہوتی؛ بعض پر حد، بعض پر "تعزیر" (قاضی کی صوابدیدی سزا)۔ حد نہ لگنا عمل کے جائز ہونے کی دلیل نہیں — وہ حرام و گناہ رہتا ہے۔
1۔ اجرت دے کر زنا (استئجار المرأۃ للزنا): صریح زنا ہے؛ جمہور (مالک، شافعی، احمد) و حدیث کی رو سے زنا کی حد نافذ ہوگی (کنوارا: 100 کوڑے؛ شادی شدہ: رجم)۔ دلائل: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ» (صحیح بخاری و مسلم)؛ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (الاسراء: 32)؛ «مَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ» (صحیح مسلم: 1568) — پیسے دینا زنا کی حقیقت نہیں بدلتا بلکہ گناہ شدید تر کرتا ہے۔ فقہی تفریق: ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ایک قول میں شبہے کی بنیاد پر بعض حالات میں حد ساقط ہو کر تعزیر ہو سکتی ہے؛ جمہور کا موقف ہی قوی و احتیاط پر مبنی ہے۔ "حد نہیں" کہنا صرف فقہی اختلاف کی طرف اشارہ ہے — عمل بہرحال حرام و کبیرہ ہے۔
2۔ جانور سے بدفعلی (وطء البھیمۃ): تمام ائمہ کے نزدیک حرام، کبیرہ و خلافِ فطرت۔ سزا میں دو موقف: (الف) تعزیر و سخت سزا (امام احمد و دیگر)؛ (ب) حدِ زنا/قتل کی بجائے تعزیر (ابو حنیفہ وغیرہ)۔ بعض روایات میں "قتل" کا ذکر آیا مگر سند و حکم محلِ اختلاف۔
خلاصہ: پیسے دے کر زنا = صریح زنا، حد نافذ، کبیرہ۔ جانور سے بدفعلی = حرام و کبیرہ، مگر زنا کی حد نہیں، تعزیر۔