بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 043
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 25 جولائی 2026 — ہجری: 9 صفر 1448ھ
سوال

الیاس گھمن صاحب کا کہنا ہے کہ جو بندہ کسی عورت کو پیسے دے کر زنا کرتا ہے اس پہ حد نہیں، جانوروں سے کرنے والے پہ حد نہیں — قرآن و حدیث اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں گناہ ہے لیکن حد نہیں۔

الجواب
مختصر جواب

پیشگی اصول: ہر حرام کام پر "حد" (مقررہ سزا) نہیں ہوتی؛ بعض پر حد، بعض پر "تعزیر" (قاضی کی صوابدیدی سزا)۔ حد نہ لگنا عمل کے جائز ہونے کی دلیل نہیں — وہ حرام و گناہ رہتا ہے۔

پیشگی اصول: ہر حرام کام پر "حد" (مقررہ سزا) نہیں ہوتی؛ بعض پر حد، بعض پر "تعزیر" (قاضی کی صوابدیدی سزا)۔ حد نہ لگنا عمل کے جائز ہونے کی دلیل نہیں — وہ حرام و گناہ رہتا ہے۔

1۔ اجرت دے کر زنا (استئجار المرأۃ للزنا): صریح زنا ہے؛ جمہور (مالک، شافعی، احمد) و حدیث کی رو سے زنا کی حد نافذ ہوگی (کنوارا: 100 کوڑے؛ شادی شدہ: رجم)۔ دلائل: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ» (صحیح بخاری و مسلم)؛ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (الاسراء: 32)؛ «مَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ» (صحیح مسلم: 1568) — پیسے دینا زنا کی حقیقت نہیں بدلتا بلکہ گناہ شدید تر کرتا ہے۔ فقہی تفریق: ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ایک قول میں شبہے کی بنیاد پر بعض حالات میں حد ساقط ہو کر تعزیر ہو سکتی ہے؛ جمہور کا موقف ہی قوی و احتیاط پر مبنی ہے۔ "حد نہیں" کہنا صرف فقہی اختلاف کی طرف اشارہ ہے — عمل بہرحال حرام و کبیرہ ہے۔

2۔ جانور سے بدفعلی (وطء البھیمۃ): تمام ائمہ کے نزدیک حرام، کبیرہ و خلافِ فطرت۔ سزا میں دو موقف: (الف) تعزیر و سخت سزا (امام احمد و دیگر)؛ (ب) حدِ زنا/قتل کی بجائے تعزیر (ابو حنیفہ وغیرہ)۔ بعض روایات میں "قتل" کا ذکر آیا مگر سند و حکم محلِ اختلاف۔

خلاصہ: پیسے دے کر زنا = صریح زنا، حد نافذ، کبیرہ۔ جانور سے بدفعلی = حرام و کبیرہ، مگر زنا کی حد نہیں، تعزیر۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔