کیا غیر مسلم کو ملازم رکھنا جائز ہے؟ یا غیر مسلم کے ماتحت کام کرنا؟ اگر وہ غیر مسلم قادیانی/احمدی ہو تو؟ — مکمل واضح مدلل جوابات اردو میں۔
1۔ غیر مسلم کو ملازم رکھنا: دنیوی/فنی/انتظامی حلال کاموں کے لیے جائز و مباح، بشرطیکہ مسلمانوں کے دینی و اجتماعی مفاد کو نقصان نہ ہو۔ دلیل: ہجرت کے سفر میں عبداللہ بن اریقط اللیثی (جو اس وقت مسلمان نہ تھا) کو اجرت پر رہنما مقرر کرنا (صحیح بخاری: 3905)۔
1۔ غیر مسلم کو ملازم رکھنا: دنیوی/فنی/انتظامی حلال کاموں کے لیے جائز و مباح، بشرطیکہ مسلمانوں کے دینی و اجتماعی مفاد کو نقصان نہ ہو۔ دلیل: ہجرت کے سفر میں عبداللہ بن اریقط اللیثی (جو اس وقت مسلمان نہ تھا) کو اجرت پر رہنما مقرر کرنا (صحیح بخاری: 3905)۔ استثناء: خالص دینی مناصب (امامت، قضا، اوقاف) اور حساس ذمہ داریاں جہاں مسلمانوں کے راز/سیکیورٹی خطرے میں ہو۔
2۔ غیر مسلم کے ماتحت کام: اصولی طور پر جائز، شرائط کے ساتھ۔ دلائل: علی رضی اللہ عنہ کی یہودی کے باغ میں مزدوری، ہر ڈول پر ایک کھجور (سنن ابن ماجہ: 2446، مسند احمد)؛ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا عاص بن وائل کے ہاں لوہار کا کام (صحیح بخاری: 2091)؛ یوسف علیہ السلام کا مصر کے بادشاہ کے تحت خزانے کی ذمہ داری (یوسف: 55)۔ شرائط: کام بذاتِ خود حلال ہو (شراب/خنزیر/سود/قمار/اسلام مخالف پروپیگنڈا ہو تو حرام)؛ دینی فرائض (نماز، روزہ، جمعہ، پردہ) میں رکاوٹ نہ ہو؛ مسلمان کی تذلیل نہ ہو؛ موالات (دلی وفاداری) نہ ہو — تعلق پیشہ ورانہ حد تک۔
3۔ قادیانی کا حکم (= آرکائیو 056): عام غیر مسلموں سے بنیادی طور پر مختلف۔ ختمِ نبوت قطعی عقیدہ؛ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج؛ امت کے تمام مکاتب، فقہ اکیڈمی جدہ و رابطہ عالم اسلامی کے متفقہ فیصلے سے مرتد و زندیق کے حکم میں۔ قادیانی کے ماتحت ملازمت: سخت ناجائز و ممنوع (متفقہ فتویٰ) — وجوہات: معاشی دباؤ/ترغیب سے ایمان کو نشانہ بنانا؛ ختمِ نبوت کے منکر کے ماتحت دست نگر ہونا غیرتِ ایمانی و سدِ ذریعہ کے خلاف۔ قادیانی کو ملازم رکھنا: عام حالات میں مکمل اجتناب واجب (راجح و متفقہ پوزیشن) — اختلاط، خفیہ تبلیغ و نیٹ ورک کی تقویت کا راستہ۔
خلاصہ: عام غیر مسلم سے شرائط کے ساتھ لین دین/ملازمت درست؛ قادیانی سے ملازمت کا تعلق ممنوع و ایمان کے لیے خطرہ۔