یہ جو ہم قبر پر دفن کے بعد بلند آواز سے اجتماعی دعا کرتے ہیں اور باقی سب آمین کہتے ہیں، اس کی کیا دلیل ہے؟
مروجہ صورت (ایک شخص ہاتھ اٹھا کر بلند آواز میں دعا کرائے، باقی آمین کہیں) نبی ﷺ و صحابہ سے ثابت نہیں؛ مسنون طریقہ: ہر شخص انفرادی طور پر میت کے لیے مغفرت و ثابت قدمی کی دعا کرے۔
مروجہ صورت (ایک شخص ہاتھ اٹھا کر بلند آواز میں دعا کرائے، باقی آمین کہیں) نبی ﷺ و صحابہ سے ثابت نہیں؛ مسنون طریقہ: ہر شخص انفرادی طور پر میت کے لیے مغفرت و ثابت قدمی کی دعا کرے۔
1۔ ثابت شدہ سنت: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ المَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الآنَ يُسْأَلُ» (سنن ابی داؤد: 3221؛ البانی: صحیح)۔ غور: آپ ﷺ نے "اسْتَغْفِرُوا / سَلُوا" صیغۂ جمع سے ہر ایک کو خود مانگنے کا حکم دیا — "میں دعا کرواتا ہوں، تم آمین کہو" نہیں فرمایا۔ انفرادی دعا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ»۔
2۔ عدمِ ثبوت: آپ ﷺ نے سینکڑوں تدفینیں کیں — ایک بار بھی اس ہیئت سے اجتماعی دعا ثابت نہیں؛ خلفائے راشدین و سلف کے دور میں بھی ثبوت نہیں۔
3۔ قائلین کے دلائل کا جائزہ: عمومی فضائلِ دعا پیش کیے جاتے ہیں؛ اصولی ضابطہ: جس عبادت کا سبب و موقع عہدِ نبوی میں موجود تھا مگر اس مخصوص ہیئت پر عمل نہیں ہوا، اسے اسی ہیئت سے رواج دینا بدعتِ اضافی۔ نمازِ جنازہ بذاتِ خود اجتماعی دعا ہے؛ دفن کے بعد تلقین انفرادی استغفار کی ہے۔
4۔ کبار اہلِ علم: اللجنۃ الدائمہ (فتاویٰ، ج9، ص17): "تدفین کے بعد میت کے لیے اجتماعی دعا بدعت ہے... مسنون یہ ہے کہ ہر شخص تنہا دعا کرے"؛ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا بھی یہی فتویٰ۔
طریقہ: دفن کے بعد قبر کے پاس ہر شخص اپنے طور پر آہستہ آواز میں مغفرت، عذابِ قبر سے نجات و ثابت قدمی کی دعا کرے۔