بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 057
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 11 اکتوبر 2026 — ہجری: 28 ربیع الثانی 1448ھ
سوال

آپ سے پوچھنا تھا کہ کوٹیکس ٹریڈنگ حلال ہے یا نہیں؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ بائنری آپشنز = صریح قمار: صرف اندازہ کہ 1–5 منٹ میں قیمت اوپر جائے گی یا نیچے؛ درست ہو تو طے شدہ منافع، غلط ہو تو ساری رقم ڈوب گئی — یہی قمار/میسر ہے، قرآن میں صریح حرام۔

کوٹیکس پر ٹریڈنگ قطعی حرام و ناجائز؛ نفع مالِ حرام۔

1۔ بائنری آپشنز = صریح قمار: صرف اندازہ کہ 1–5 منٹ میں قیمت اوپر جائے گی یا نیچے؛ درست ہو تو طے شدہ منافع، غلط ہو تو ساری رقم ڈوب گئی — یہی قمار/میسر ہے، قرآن میں صریح حرام۔

2۔ ملکیت و قبضے کی عدم موجودگی: «لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» (ابی داؤد، ترمذی — صحیح)؛ کوٹیکس پر صارف کسی اثاثے کا مالک نہیں بنتا، نہ ڈیلیوری ملتی ہے — صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ پر ڈیجیٹل شرط۔

3۔ شدید غرر: بیعِ غرر سے ممانعت ثابت؛ چند سیکنڈ کی پیش گوئی خالص اتفاق و قسمت آزمائی — حقیقی تجارت سے کوئی تعلق نہیں۔

فیصلہ: کبار اہلِ علم، دار الافتاء و فقہی اکیڈمیوں کا متفقہ فتویٰ — کوٹیکس، بائنومو، اولمپ ٹریڈ جیسے تمام بائنری پلیٹ فارم حرام۔ حلال متبادل: حقیقی تجارت، فری لانسنگ، یا اسپاٹ ٹریڈنگ جہاں حقیقی خرید و فروخت ہو اور سود/جوا/لیوریج نہ ہو۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔