کیا شریعت میں حکم ہے کہ ایک عورت ساس اور سسر کی خدمت کرے؟ شرعی مدلل جواب۔
1۔ قانونی و شرعی حیثیت — فرض/واجب نہیں: چاروں مذاہب کے جمہور فقہاء و کبار معاصر اہلِ علم کا اتفاق: بہو پر ساس سسر کی خدمت شرعی/قانونی فریضہ نہیں۔ عقدِ نکاح سے عورت پر صرف شوہر کے حقوق لازم ہوتے ہیں (معروف میں اطاعت، گھر و عزت کی حفاظت)؛ شوہر کے والدین کی خدمت نکاحی معاہدے میں شامل نہیں۔
1۔ قانونی و شرعی حیثیت — فرض/واجب نہیں: چاروں مذاہب کے جمہور فقہاء و کبار معاصر اہلِ علم کا اتفاق: بہو پر ساس سسر کی خدمت شرعی/قانونی فریضہ نہیں۔ عقدِ نکاح سے عورت پر صرف شوہر کے حقوق لازم ہوتے ہیں (معروف میں اطاعت، گھر و عزت کی حفاظت)؛ شوہر کے والدین کی خدمت نکاحی معاہدے میں شامل نہیں۔ شوہر مجبور نہیں کر سکتا؛ خدمت نہ کرے تو گناہ گار نہیں، شوہر سختی کا مجاز نہیں۔
2۔ اخلاقی و ثواب کا پہلو: گھریلو سکون و حسنِ معاشرت کی غیر معمولی تلقین ہے — ساس سسر کی دیکھ بھال شوہر کے ساتھ نیکی و وفاداری کی اعلیٰ مثال، دل میں جگہ و گھر کے جوڑ کا ذریعہ، نیکی و صدقہ۔ بزرگوں کا احترام: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا»۔ اسوہ: علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تقسیمِ کار (باہر کے کام علی، گھر کے کاموں میں فاطمہ کا ہاتھ بٹانا — فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی خدمت کے سلسلے میں)۔
3۔ اصل ذمہ دار: والدین کی خدمت، علاج و ضروریات کا لازمی فرض بیٹے پر ہے — ذمہ داری بیوی پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ بیوی خوش دلی سے کرے تو شوہر احسان مند رہے و قدر کرے؛ بیوی بیمار/نہ کر سکے تو شوہر خود کرے یا استطاعت ہو تو خادمہ کا انتظام کرے۔
خلاصہ: قانونی فریضہ نہیں — مگر امنِ گھر، استحکامِ خاندان و شوہر کی خوشنودی کے لیے اخلاقِ حسنہ، احسان و عظیم اجر کا باعث۔