بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 053
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 23 ستمبر 2026 — ہجری: 10 ربیع الثانی 1448ھ
سوال

عورت کے پیٹ میں بچہ کتنے ماہ کا ہوتا ہے تو روح پھونک دی جاتی ہے؟

الجواب
مختصر جواب

چار ماہ (120 دن) مکمل ہونے پر روح پھونکی جاتی ہے — متفق علیہ حدیث: ابن مسعود رضی اللہ عنہ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ» (صحیح بخاری: 3208، صحیح مسلم: 2643)۔

چار ماہ (120 دن) مکمل ہونے پر روح پھونکی جاتی ہے — متفق علیہ حدیث: ابن مسعود رضی اللہ عنہ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ» (صحیح بخاری: 3208، صحیح مسلم: 2643)۔

حساب: نطفہ 40 دن + علقہ 40 دن + مضغہ 40 دن = 120 دن = چار قمری ماہ؛ تب فرشتہ روح پھونکتا ہے اور رزق، عمر، عمل، شقی/سعید لکھا جاتا ہے۔

متعلقہ احکام (120 دن کے بعد): (1) اسقاطِ حمل — ماں کی جان کے قطعی خطرے کے سوا بالاجماع قتلِ نفس کے مترادف، کبیرہ گناہ؛ (2) بچہ ضائع/مردہ پیدا ہو تو غسل، کفن، نام اور نمازِ جنازہ کے ساتھ تدفین — سنت طریقہ۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔