عورت کے پیٹ میں بچہ کتنے ماہ کا ہوتا ہے تو روح پھونک دی جاتی ہے؟
چار ماہ (120 دن) مکمل ہونے پر روح پھونکی جاتی ہے — متفق علیہ حدیث: ابن مسعود رضی اللہ عنہ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ» (صحیح بخاری: 3208، صحیح مسلم: 2643)۔
چار ماہ (120 دن) مکمل ہونے پر روح پھونکی جاتی ہے — متفق علیہ حدیث: ابن مسعود رضی اللہ عنہ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ» (صحیح بخاری: 3208، صحیح مسلم: 2643)۔
حساب: نطفہ 40 دن + علقہ 40 دن + مضغہ 40 دن = 120 دن = چار قمری ماہ؛ تب فرشتہ روح پھونکتا ہے اور رزق، عمر، عمل، شقی/سعید لکھا جاتا ہے۔
متعلقہ احکام (120 دن کے بعد): (1) اسقاطِ حمل — ماں کی جان کے قطعی خطرے کے سوا بالاجماع قتلِ نفس کے مترادف، کبیرہ گناہ؛ (2) بچہ ضائع/مردہ پیدا ہو تو غسل، کفن، نام اور نمازِ جنازہ کے ساتھ تدفین — سنت طریقہ۔